انوارالعلوم (جلد 15) — Page xvi
انوار العلوم جلد ۱۵ تعارف کتب میں آپ نے قرآن کریم کی رو سے نیز عقلی اور نقلی دلائل سے ثابت کیا کہ امن عالم میں جو کردار آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ادا کیا اس کی مذہبی وڈ نیوی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔اس لئے توحید باری تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد اس ضابطہ حیات پر عمل کرنا ضروری ہے جو آنحضرت ﷺ کی وساطت سے قرآن کریم کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔اس ساری تقریر کا خلاصہ اور لب لباب یہ بنتا ہے کہ:۔ا۔توحید باری تعالیٰ پر کامل ایمان جس کے عملی اظہار کے لئے بیت اللہ جسے امنِ عالم کے لئے درسگاہ قرار دیا ہے کے ساتھ وابستگی۔۔قرآنی تعلیمات جو امنِ عالم کے لئے کورس کی حیثیت رکھتی ہیں پر عمل درآمد۔آنحضرت ﷺ جو امن عالم کے سب سے بڑے داعی اور مدرس ہیں کے اُسوہ حسنہ کی تقلید امنِ عالم کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔اس تقریر میں حضور نے امنِ عالم کے تعلق میں درج ذیل دوسوالات کے مختلف پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ا۔حقیقی امن سے مراد کیا ہے؟ -۲۔حقیقی امن کے حصول کے ذرائع کیا ہیں؟ (۹) جماعت احمدیہ کی زندگی کا مقصد جماعت احمدیہ کی زندگی کا مقصد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت زمین میں بھی قائم ہو۔یہ مختصر تقریر حضور نے مؤرخہ ۲۶ / دسمبر ۱۹۳۸ء کو جلسہ سالا نہ قادیان کے موقع پر جلسہ کا افتتاح کرتے ہوئے ارشاد فرمائی جس میں جماعت احمدیہ کے قیام کی غرض وغایت بیان فرمائی ہے اور احباب جماعت کو اُن کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ:۔”ہمارے سامنے ایک ہی بات ہونی چاہئے اور وہ یہ کہ ہم اس ذمہ داری کو پوری طرح ادا کریں جو خدا تعالیٰ نے ہم پر رکھی ہے اور ہم اپنی زندگی کے ہرلمحہ کو اپنی طاقتوں اور سامانوں کو کلی طور پر اس لئے صرف کریں کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت جس طرح آسمان پر ہے زمین پر بھی قائم ہو۔