انوارالعلوم (جلد 15) — Page 121
انوار العلوم جلد ۱۵ فیصلہ ہائی کورٹ بمقدمہ میاں عزیز احمد اور جماعت احمد یہ نسبت آج کہا جا رہا ہے کہ اس نے لوگوں کو قتل وغارت کی تعلیم دی اور فساد پر آمادہ کیا۔ بعض کے خطوط تو ایسے درد ناک ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے ان کے دل خون ہو گئے ہیں اور ان کے لئے عرصہ حیات تنگ ہو گیا ہے ۔ پس باوجود اس کے کہ عدالت عالیہ کے فیصلہ کے متعلق کچھ لکھنا ایک نازک سوال ہے اور قانون کا کوئی ماہر ہی اس مشکل راستہ کو بخیریت طے کر سکتا ہے میں مجبور ہو گیا ہوں کہ اس بارہ میں اپنے خیالات کو ظاہر کروں ۔ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ سب سے پہلے تو میں یہ کہتا ہوں کہ اے بھائیو! میں تمہاری ہمدردی کا شکر گزار ہوں کہ تم نے میرے زخمی دل پر چھایا رکھنے کی کوشش کی اور میرے غم میں شریک ہوئے اور میرے بوجھ کے اٹھانے کیلئے اپنے کندھے پیش کر دیئے ۔ خدا کی تم پر رحمتیں ہوں وہ تمہارے دل کے زخموں کو مندمل کرے اور تمہارے دکھوں کا بوجھ ہلکا کرے کہ تم نے اس کے ایک کمزور بندے پر رحم کیا اور اس کے غم نے تمہارے دلوں کو پریشان کر دیا۔ بے شک آج پشاور سے لے کر ر اُس کماری تک ہزاروں گھر رنج والم کا شکار ہو رہے ہیں ، ہزاروں ہزار عورتیں ، مرد، بچے کرب و با و بلا میں مبتلاء ہیں اور خون کے آنسو ان کی آنکھوں سے رواں ہیں لیکن ان کے احساسات اُن احساسات کی گہرائی کو کہاں پہنچ سکتے ہیں جو ان ایام میں میرے دل میں پیدا ہوتے رہے ہیں اور پیدا ہور ہے ہیں ۔ شاید تم میں سے بعض اپنا غصہ اس طرح نکال لیتے ہونگے کہ وہ اس فیصلہ کی ذمہ داری جوں پر ڈال دیتے ہونگے اور کہتے ہونگے کہ ججوں نے غلطی کی انہوں نے ہمارے امام رے امام کو سمجھا نہیں اور بعض اس طرح غصہ نکال لیتے ہونگے کہ جوں نے تو محض اس امر کا اظہار کیا ہے کہ مذہبی لیڈروں کو اپنے خیالات کو احتیاط سے ادا کرنا چاہئے تا کہ دوسرے لوگ غلط فہمی میں مبتلاء ہو کر کوئی خلاف قانون حرکت نہ کر بیٹھیں لیکن اخبار والوں اور دشمن مولویوں نے شرارت کی ہے کہ ان کے فقروں کو اور معنی دے دیئے ہیں اور یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ امام جماعت احمد یہ نے قتل و غارت کی تلقین کا ارتکاب کیا ہے ۔ مگر اے دوستو ! میں اپنے دل کی آگ کو اس قسم کے خیالات کے پانی سے بھی سرد نہیں کر سکتا کیونکہ کیا اس امر کا انکار کیا جا سکتا ہے کہ جوں نے جو کچھ سمجھا اس کا موجب آپ ہی لوگوں میں سے ایک شخص کی غلطی تھی ۔ اگر میاں عزیز احمد بے قابو نہ ہو جاتے اور اگر ان سے اس فعل کا ارتکاب نہ ہوتا جو ہوا تو ججوں کو میرے متعلق اچھے یا برے خیالات کے اظہار کا موقع ہی کب مل سکتا تھا ۔ ان کو ان ریمارکس کے لکھنے کا موقع تو خود آپ لوگوں میں سے ہی ایک فرد نے دیا اور اگر اخباروں نے جوں کے فیصلہ کے غلط معنی لئے تو اس کی ذمہ داری بھی تو آپ