انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 109

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی مجبور ہوگی کہ اگر وہ اپنی بیویوں سے یکساں سلوک نہیں کرتا، تو اس سے مطالبہ کرے کہ وہ ان ہرسہ طریق میں سے کسی ایک طریق کو اختیار کرے اور اگر وہ کسی طریق کو بھی اختیار کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو اسے جماعت سے الگ کر دیا جائے۔تیسر احکم جس کی طرف اس وقت لوگوں کو توجہ نہیں، امانت ہے۔اس کے متعلق ۳۔امانت بھی جماعت کو یہ عہد کر لینا چاہئے کہ آئندہ ہر احمدی پورا پورا امین ہوگا اور کسی کی امانت میں خیانت نہیں کرے گا۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ ایسے ہیں کہ جب ان کے پاس کوئی شخص امانت رکھ جاتا ہے تو وہ اپنے حالات کی مجبوری کی وجہ سے اس امانت میں سے کچھ روپیہ ذاتی ضروریات پر خرچ کر لیتے ہیں اور جب امانت رکھنے والا اپنی امانت لینے کے لئے آتا ہے تو بجائے اس کے کہ اسی وقت روپیہ دے دیں کہتے ہیں چند دن صبر کریں۔آپ کا روپیہ میں نے خرچ کر لیا تھا مجھے فلاں جگہ سے روپیہ ملنے والا ہے وہ ملتے ہی میں آپ کو ادا کر دوں گا۔اس طرح وہ گو بظاہر دیانتداری سے امانت کی رقم خرچ کرتے ہیں اور اس رقم کو واپس کرنے کا بھی پختہ ارادہ رکھتے ہیں مگر ہوتے دراصل خائن ہیں۔امانت کا طریق یہی ہے کہ جیسی کسی نے امانت رکھی ہو ویسی ہی وہ پڑی رہے اور جب امانت مانگنے والا آئے اسے فوراً دے دی جائے۔دہلی میں حکیم محمود خاں صاحب کا خاندان نہایت ہی امین خاندان مشہور تھا جب غدر ہوا ہے اس وقت لوگ ان کی ڈیوڑھی میں زیورات اور کپڑوں کی بندھی بندھائی گٹھڑیاں پھینکتے چلے جاتے تھے۔کیونکہ وہ مہاراجہ پٹیالہ کے طبیب شاہی تھے اور مہاراجہ پٹیالہ نے ان کے مکان کی حفاظت کے لئے خاص طور پر ایک گارد بھجوا دی تھی اور انگریزوں سے کہہ دیا تھا کہ یہ چونکہ میرے شاہی طبیب ہیں اس لئے انہیں کچھ نہ کہا جائے۔تو چونکہ اس وقت ان کا مکان محفوظ تھا اور دوسرے لوگوں کے مکان غیر محفوظ تھے اور پھر وہ نہایت ہی امین مشہور تھے ، اس لئے لوگ بھاگتے ہوئے آتے اور زیورات اور پار چات کی گھڑیاں ان کی ڈیوڑھی میں پھینکتے چلے جاتے اور اس امر کی کوئی پرواہ نہ کرتے کہ ان زیوروں یا کپڑوں کا کیا بنے گا۔آخر انہی لوگوں میں سے جنہوں نے اس وقت گٹھڑیاں پھینکی تھیں بعض دس دس سال کے بعد آئے اور انہوں نے بجنسہ اپنی چیزیں ان سے لے لیں۔یہی نمونہ ہماری جماعت کے ہر فرد کو دکھانا چاہئے اور ہر احمدی کو امانت میں اتنا مشہور ہونا چاہئے کہ لوگ لاکھوں روپے اس کے پاس رکھنے میں بھی دریغ نہ کریں اور ایک احمدی کا نام سنتے ہی لوگ یہ سمجھ لیں کہ یہ ایسا شخص ہے کہ اس کے پاس روپیہ ر کھنے میں کوئی حرج نہیں۔