انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 108

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی مرضی سے خدا تعالیٰ کی محبت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے احیاء کے لئے طوعاً ، بغیر کسی جبر اور اکراہ کے اس امر کے لئے تیار ہے کہ وہ اپنی جائداد سے اپنی لڑکیوں اور دوسری رشتہ دار عورتوں کو وہ حصہ دے گا جو خدا اور اس کے رسول نے مقرر کیا ہے۔پس اس وقت چونکہ بحیثیت جماعت آپ لوگوں نے عمل کا اقرار کیا ہے، اس لئے یا درکھیں کہ آئندہ اگر کوئی شخص اس پر عمل نہیں کرے گا تو اس سے قطع تعلق کا حکم دیا جائے گا یا کوئی اور سزا دی جائے گی جو ہمارے امکان میں ہے اور اگر وہ سزا برداشت کرنے کے لئے تیار نہ ہوا تو اسے جماعت سے الگ کر دیا جائے گا۔دوسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ گو اتنی عام تو نہیں مگر ۲۔عورتوں کے حقوق چونکہ شریعت کا حکم ہے اس لئے میں کہتا ہوں کہ عورتوں کے حقوق کا ہمیشہ خیال رکھو اور ان کے جذبات کو مسلنے کی بجائے ان کی قدر کر و خصوصاً ایسی حالت میں جبکہ تمہاری ایک سے زائد بیویاں ہوں۔یہ حکم ہے جو شریعت نے دیا ہے کہ اپنی تمام عورتوں سے یکساں سلوک رکھو۔مگر میں نے دیکھا ہے یہ حکم اکثر تو ڑا جاتا ہے اور شریعت کے احکام کی پابندی نہیں کی جاتی اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ عورت کے سینہ میں دل نہیں بلکہ پتھر کا ٹکڑا ہے اور بعض جگہ تو بلا کسی شرعی حکم کے عورت کو اس بات پر مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ سے نہ ملے اور خاوند سمجھتا ہے کہ بیوی کو میرے ماتحت کتوں کی طرح رہنا چاہئے۔وہ نادان اس بات کو نہیں سمجھتا کہ خدا تعالیٰ نے عورت کو بھی انسان بنایا ہے اور اس کے اندر بھی جذبات اور احساسات رکھے ہیں۔کیا وہ خود اس بات کو پسند کر سکتا ہے کہ اسے اپنے ماں باپ سے ملنے اور ان کی خدمت کرنے سے روکا جائے اگر نہیں تو اس عورت کے جذبات کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔مگر مجھے افسوس ہے کہ جن کی ایک سے زیادہ عورتیں ہیں ، ان میں سے بعض یکساں سلوک نہیں کرتے اور بعض تو اس قدر ظلم کرتے ہیں کہ اپنی بیویوں کو ان کے ماں باپ کی خدمت کرنے اور ان سے ملنے سے بھی روک دیتے ہیں۔یہ ایک نہایت ہی قابل شرم حرکت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ آج ہماری جماعت کو یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ اس کے افراد عورت کے احساسات کی عزت کریں گے۔بیشک شریعت مردوں کو بھی بعض حقوق دیتی ہے کیونکہ شریعت نے مرد کو قیم بنایا ہے۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ اس کے لئے ظلم اور نا انصافی روا ہو جائے۔پس ہم میں سے ہر شخص کو یہ عہد کرنا چاہئے کہ یا تو وہ آئندہ دوسری شادی نہیں کرے گا اور اگر کرے گا تو یا دونوں بیویوں میں انصاف کرے گا اور اگر انصاف نہیں کر سکتا تو پہلی بیوی کو طلاق دے دے گا۔ورنہ جماعت