انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 107

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی کیا ہے۔مگر میں پوچھتا ہوں اس مسئلہ پر عمل کرنے میں کیا روک ہے؟ سوائے اس کے کہ تم یہ کہو کہ ہمارے ہاں رواج نہیں۔اس کا اور کوئی جواب تم نہیں دے سکتے مگر کیا پچھلے تمام مسلمان اس پر عمل نہیں کرتے رہے اور کیا یہ شرم کی بات نہیں کہ آج یو پی کا ہر غیر احمدی تو اس پر عمل کرتا ہے اسی طرح صوبہ سرحد میں مسلمانوں نے اپنی مرضی سے ایسا قانون بنوایا ہے جس پر چل کر ہر شخص شریعت کے مطابق اپنی جائداد تقسیم کرنے کے لئے مجبور ہے مگر وہ احمدی جس کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ اس زمین کو بدل کر ایک نئی زمین بنائے گا اور اس آسمان کو بدل کر ایک نیا آسمان بنائے گا وہ اپنی بیٹیوں ، اپنی بہنوں ، اپنی بیویوں اور اپنی ماؤں کو وہ حصہ نہیں دیتا جو شرعاً انہیں ملنا چاہئے۔میں سمجھتا ہوں زمینداروں کو یہ خطرہ ہوتا ہے کہ اس طرح ہماری پیدا کردہ جائداد دوسرے لوگوں کے قبضہ میں چلی جائے گی لیکن جب ساری جماعت اس مسئلہ پر عمل کرے گی تو یہ مشکل بھی جاتی رہے گی کیونکہ اس کی جائداد دوسرے کے قبضہ میں جائے گی تو دوسرے کی جائداد اس کے قبضہ میں بھی تو آئے گی۔پس اس مسئلہ پر عمل کرنے میں کوئی حقیقی روک نہیں ہے اور میں سمجھتا ہوں اب وقت آ گیا ہے کہ ہر مخلص اقرار کرے کہ آئندہ وہ اس کی پابندی کرے گا اور اپنی بیٹی اپنی بہن اپنی بیوی اور اپنی ماں کو وہ حصہ دے گا جو شریعت نے انہیں دیا ہے اور اگر وہ اس کی پابندی کرنے کے لئے تیار نہیں تو وہ ہم سے الگ ہو جائے۔پس آئندہ پورے طور پر اپنی اپنی جماعتوں میں اس کی پابندی کرائی جائے اور جو لوگ اس مسئلہ پر عمل نہ کریں ان کے متعلق غور کیا جائے کہ ان کے لئے کیا تعزیر مقرر کی جاسکتی ہے اور اگر کوئی ہماری تعزیر کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو ایسے شخص کو جماعت سے نکال دیا جائے تا آئندہ کوئی شخص یہ نہ کہہ سکے کہ تمہارے ہاں شریعت کی ہتک ہوتی ہے۔اب اس مسئلہ کی اہمیت سمجھانے کے بعد اور یہ ثابت جماعت احمدیہ سے مطالبہ کر دینے کے بعد کہ نئی زمین اور نیا آسمان اسی طرح بنایا جا سکتا ہے جب احیائے سنت اور احیائے شریعت کیا جائے۔میں آج وہ بات کہتا ہوں جو پہلے کبھی نہیں کہی اور میں جماعت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ آپ میں سے جو لوگ اس مسئلہ پر آئندہ عمل کرنے کے لئے تیار ہوں وہ کھڑے ہو جائیں (اس پر تمام حاضرین نے کھڑے ہو کر لبیگ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَبَّيْكَ کہتے ہوئے اس کا اقرار کیا۔اس کے بعد حضور نے فرمایا ) دیکھو آج تم میں سے ہر شخص نے یہ اقرار کیا ہے کہ وہ دُکھوں اور تکالیف کی کوئی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی