انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 106

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی لیکن بہر حال ان امور میں حکومت ہی دخل دے سکتی ہے عام لوگ دخل نہیں دے سکتے۔مگر شریعت کے بعض حصے ایسے ہیں کہ باوجود ان کے سیاسی اور نظام کے ساتھ متعلق ہونے کے گورنمنٹ ان میں دخل نہیں دیتی۔جیسے قادیان میں قضاء کا محکمہ ہے حکومت اس میں کوئی دخل نہیں دے سکتی کیونکہ اس نے خود اجازت دی ہوئی ہے کہ ایسے مقدمات کا جو قابلِ دست اندازی پولیس نہ ہوں آپس میں تصفیہ کر لیا جائے۔پس اسلامی شریعت کا وہ حصہ جس میں حکومت دخل نہیں دیتی اور جس کے متعلق حکومت نے ہمیں آزادی دی ہوئی ہے کہ ہم اس میں جس رنگ میں چاہیں فیصلہ کریں، ہمارا فرض ہے کہ اس حصہ کو عملی رنگ میں اپنی جماعت میں قائم کریں اور اگر ہم شریعت کے کسی حصہ کو قائم کر سکتے ہوں مگر قائم نہ کریں تو یقیناً اس کے ایک ہی معنے ہوں گے اور وہ یہ کہ ہم شریعت کی بے حرمتی کرتے ہیں۔پس اب اس نہایت ہی اہم اور ضروری مقصد کے لئے ہمیں عملی قدم اُٹھانا چاہئے جو خدا تعالیٰ نے ہمارے اختیار میں رکھا ہوا ہے اور جماعت کے کسی فرد کی کمزوری یا ٹھوکر کا کوئی لحاظ نہیں کرنا چاہئے۔اصلاح اعمال کا پہلا قدم عورتوں کو ورثہ دینا اس سلسلہ میں پہلا قدم ان امور کی اصلاح ہے جو ظاہر و باہر ہیں۔آج میں ان میں سے ایک امر آپ لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔اس کو اگر ہم اختیار کر لیں تو یقیناً ہمارے راستہ میں کوئی روک نہیں۔صرف لوگوں کی بے دینی ، ناواقفی اور سستی اس راہ میں حائل ہے۔یعنی کسی کے لئے سستی ، کسی کے لئے ناواقفی اور کسی کے لئے بے دینی اس مسئلہ پر عمل کرنے میں روک بنی ہوئی ہے۔ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ آج ہی ہماری ساری جماعت یہ فیصلہ نہ کر لے کہ کل اس میں وہ بدی نہیں ہو گی۔وہ ایک قومی گناہ ہے جس کا ارتکاب کیا جارہا ہے اور وہ یہ کہ ہمارے ملک میں زمینداروں میں بالعموم ورثہ کے مسئلہ پر عمل نہیں کیا جاتا۔آج پچاس سال جماعت احمدیہ کو قائم ہوئے گزر گئے ہیں مگر ابھی تک ہماری جماعت میں لڑکیوں کو اپنی جائدادوں میں سے وہ حصہ نہیں دیا جاتا جو خدا اور رسول نے ان کے لئے مقرر کیا ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ کہیں بھی اس پر عمل نہیں ہوتا خود ہم نے اپنی والدہ اور بہنوں کو ان کا حصہ دیا ہے اور جھوٹا ہے وہ شخص جو کہتا ہے کہ ہم نے اپنی بہنوں کو حصہ نہیں دیا۔لیکن جماعت میں کثرت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو اس حکم پر عمل نہیں کرتے اور اپنی لڑکیوں ، اپنی بہنوں، اپنی بیویوں اور اپنی ماؤں کو ورثہ میں وہ حصہ نہیں دیتے جو شریعت نے ان کے لئے مقرر