انوارالعلوم (جلد 15) — Page 105
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی لے تو اس پر جبر کریں اور اسے اس بات پر مجبور کریں کہ وہ اسلامی طریق عمل کو اختیار کرے کیونکہ وہ ہمارا ایک حصہ بنا ہوا ہے اور اس کی بدنامی سے ہماری بدنامی ہے اور اس کی کمزوری سے ہمارے اندر کمزوری پیدا ہوتی ہے۔ایسا جبر ہرگز نا جائز نہیں کیونکہ اس شخص نے اپنی مرضی سے ہم میں شامل ہو کر ہمیں اس جبر کا حق دیا ہے۔جس طرح کہ بورڈنگ میں داخل ہو کر ایک طالب علم اساتذہ کو خود اپنے پر جبر کا حق دیتا ہے اور کوئی اس پر اعتراض نہیں کرتا۔ہاں جو اسے نا پسند کرتا ہو وہ پورا آزاد ہے کہ اپنے آپ کو جماعت سے الگ کرلے۔شریعت کے احیاء کے دو حصے اب میں یہ بتا تا ہوں کہ عملی قدم اٹھانے سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ شریعت کے احیاء کے دو بڑے حصے ہیں۔ایک وہ جس کا تعلق حکومت سے ہے اور ایک وہ جس کا تعلق نظام سے ہے۔جوا مورحکومت سے تعلق رکھتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے اسلام کا یہ حکم ہے کہ چور کا ہاتھ کا ٹو سے یا اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ قاتل کو ضروری نہیں کہ قتل ہی کیا جائے بلکہ وارثوں کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ چاہیں تو اسے قتل کی سزا دلائیں اور چاہیں تو معاف کر دیں ۱۰۸ مگر یہ اسلامی حکم چونکہ حکومت سے تعلق رکھتے ہیں، اس لئے ہم انہیں ابھی جاری نہیں کر سکتے۔پھر اسلام نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ جو شخص قاتل ہوا سے مقتول کے وارثوں کے سپرد کیا جائے تاکہ وہ حکام کی زیر نگرانی چاہیں تو خود اسے قتل کریں لیکن اب گورنمنٹ قاتلوں کو خود پھانسی دیتی ہے اور وارثوں کے سپرد نہیں کرتی۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وارثوں کے دل میں پھر بھی کینہ اور بغض رہتا ہے اور وہ کسی اور موقع پر قاتل کے رشتہ داروں سے انتقام لینے کی تلاش میں رہتے ہیں لیکن اگر اسلامی حکومت ہو تو گورنمنٹ کے افسروں کی موجودگی میں قاتل کو قتل کرنے کے لئے پہلا موقع مقتول کے رشتہ داروں ۱۰۹ کو دیا جائے گا۔ہاں اس بات کا لحاظ ضروری رکھ لیا جائے گا کہ فَلا يُسْرِفْ فِي القَتْلِ و قتل تو بیشک کرے مگر ظالمانہ رنگ میں قتل نہ کرے بلکہ قتل کے لئے جو قانون مقرر ہے اور جو طریق حکومت کا مجوزہ ہے اس کے مطابق قتل کرے اور اگر وہ کمزور دل والا ہو اور اپنے ہاتھ سے قتل کرنے کی جرات نہ کر سکتا ہو تو گورنمنٹ کو کہہ سکتا ہے کہ میں قتل نہیں کرتا، تم خود اسے قتل کروا دو۔اس طرح وہ بغض دور ہو جاتا ہے جو حکومت انگریزی کے فیصلوں کے باوجودلوگوں کے دلوں میں باقی رہ جاتا ہے اور آئندہ بہت سے فتنے پیدا کرنے کا موجب ہو جاتا ہے۔پھر بعض دفعہ قاتل کو معاف کر دینا ہی بہتر ہوتا ہے اور یہ صورت بھی مقتول کے رشتہ داروں کے اختیار میں ہوتی ہے