انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 97

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی تحریک جدید کا مقصد میں نے تحریک جدید کے پہلے دور میں اس کی طرف قدم اٹھایا تھا اور دوسرے دور کی بعض باتوں کو میں التواء میں ڈالتا گیا تھا اور میں نے کہا تھا کہ تم اپنے دلوں میں سوچو کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ عقائد کے میدان میں تو ہم نے دشمن کو شکست دی مگر عمل کے میدان میں ہم ابھی اسے شکست نہیں دے سکے ۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ لوگوں نے اپنے دلوں میں اس بات پر غور کیا ہو گا مگر میرے دل کی نیت اس وقت یہی تھی کہ میں تحریک جدید کے دوسرے دور کی بعض باتوں کو جلسہ سالانہ پر بیان کروں گا جب جماعت کا ایک حصہ میرے سامنے موجود ہوگا اور میں اُس سے دریافت کروں گا کہ آیا وہ ان باتوں پر عمل کرنے کیلئے تیار ہے یا نہیں ؟ سو آج میں اس کا اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے الْإِيْمَانُ بِضُعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً اَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْآذِى عَنِ الطَّرِيقِ ۹۲ کہ اے مسلمانو ! تم بعض دفعہ لَا إِلَهَ إِلَّا الله پڑھ کر کہہ دیتے ہو کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ ہم مومن ہیں ۔ اَلْحَمدُ لِلهِ ہم مسلمان ہیں مگر فر ما یا یہ غلط بالکل غلط اور قطعاً غلط ہے۔ اوّل تو صرف لفظا لا إِلهَ إِلَّا الله کہنا کوئی چیز نہیں ۔ اور اگر ہو بھی تو یا د رکھو کہ الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُوْنَ شُعْبَةً - ایمان کے ستر سے زیادہ حصے ہیں جن پر عمل کرنا تمہارے لئے ضروری ہے۔ یہاں بِضْعٌ وَسَبْعُونَ سے مراد کثرت ہے اور یہ عربی کا محاورہ ہے اُردو میں بھی جب کسی کو یہ کہنا ہو کہ میں نے تجھے بار ہا یہ بات کہی ہے تو کہتے ہیں میں نے تجھے سو دفعہ یہ کہا ہے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ سو دفعہ کہا ہے بلکہ مطلب کثرت کا اظہار ہوتا ہے۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایمان کے ستر سے بھی زیادہ محکمے اور ڈیپارٹمنٹ ہیں ۔ یعنی بہت سے اس کے شعبے ہیں ۔ اَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا اِلهَ إِلَّا اللهُ ۔ ان سب میں افضل بات لَا إِلَهَ إِلَّا الله کہنا ہے ۔ مگر اس کے بعد اور پھر اور پھر اور اور پھر اور شعبہ ہائے ایمان چلتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ ایک ادنی بات شعبہ ہائے ایمان میں یہ بھی داخل ہے کہ اِمَاطَةُ الاذى عَنِ الطَّرِيقِ رستے میں کانٹے انٹے پڑے پڑے ؟ ہوں تو انہیں الگ کر دیا جائے ، کنکر پتھر ہوں تو انہیں ہے ہٹا دیا جائے ، اسی طرح جو بھی تکلیف دینے والی چیز ہوا سے دور کر دیا جائے ۔ گویا جس کو لوگ ایمان کہتے ہیں اور جس پر خوشی سے پھولے نہیں سماتے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ