انوارالعلوم (جلد 15) — Page xii
انوار العلوم جلد ۱۵ تعارف کتب سے ہوتی ہے ورنہ ہمارا خدا وفا دار ہے وہ خود ہمیں نہیں چھوڑاتا۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ تمام جماعت کو اس وقت کی ضرورت کو سمجھنے کی توفیق دے اور جوش اور اظہار غضب کے بجائے سچی قربانی کے پیش کرنے اور اس پر مستقل رہنے کی توفیق دے۔کیونکہ قربانی وہ نہیں جو ہم پیش کرتے ہیں ، قربانی وہ ہے جس کا زمانہ کی ضرورت کے مطابق ہمارا رب ہم سے مطالبہ کرتا ہے۔ہمارے دشمنوں کو ہم نے نہیں بلکہ ہمارے خدا نے شکست دینی ہے۔سچی قربانی کرو اور دعائیں کرو اور کبر اور خود پسندی کو چھوڑ دو اور بڑے ہو کر منکسر المزاج بنو اور طاقت کے ہوتے ہوئے عفو کو اختیار کرو تا اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار ہو۔(۴) كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے یہ مضمون ۱۷ مئی ۱۹۳۸ کوتحریرفرمایا جو روزنامه الفضل قادیان میں مؤرخہ ۲۲ رمئی ۱۹۳۸ء کو شائع ہوا۔اس مضمون کے ذریعہ چندا ہم وفات یافتگان کا ذکرِ خیر کرنا مقصود تھا جس میں سے سب سے اہم وفات حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کی والدہ محترمہ کی تھی۔در حقیقت یہی وفات اِس مضمون کو تحریر کرنے کا باعث بنی۔دیگر وفات یافتگان میں مکرم حافظ بشیر احمد صاحب واقف زندگی ، مکرم چوہدری عبدالقادر صاحب ایڈووکیٹ اور مکرم خان صاحب فقیر محمد خان صاحب شامل ہیں۔اس مضمون میں حضور نے تمام وفات یافتگان کا ذکر خیر کیا ہے اور خاص طور پر حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کی والدہ ماجدہ کا ذکر خیر کرتے ہوئے ان کے اوصاف حمیدہ اور خوبیوں پر روشنی ڈالی ہے اور آخر پر دعا کرتے ہوئے فرمایا کہ:- اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحومہ کو اپنے قرب میں جگہ دے اور ان کے خاندان کو ان کی دعاؤں کی برکات سے محروم نہ کرے اور وہ ان کی وفات کے بعد بھی ان کے حق میں پوری ہوتی رہیں“۔(امین)