انوارالعلوم (جلد 15) — Page xi
انوار العلوم جلد ۱۵ تعارف کتب جس کے پیش نظر حضرت مصلح موعود نے مورخہ ۱۱ جنوری ۱۹۳۸ء کے روز نامہ الفضل میں یہ مضمون تحریر فرمایا۔جس میں احباب جماعت کو ایسے حالات میں صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی گئی نیز میاں عزیز احمد صاحب کی اس غلطی کے نتیجہ میں خلافت کا جو مقام اور جماعت کی جو ساکھ متاثر ہوئی اس کے کفارہ کے طور پر کثرت سے استغفار کرنے ، دعائیں کرنے ، روزے رکھنے اور تہجد وغیرہ ادا کرنے کی تحریک فرمائی۔(۳) جماعت احمدیہ سے قربانی کا مطالبہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا یہ مضمون روز نامہ الفضل قادیان میں مؤرخہ ۲۱ مئی ۱۹۳۸ء کو شائع ہوا جس میں حضور نے احباب جماعت سے قربانیوں کا مطالبہ کیا ہے۔اس مطالبہ کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ اُن دنوں گورداسپو کی انتظامیہ کا جماعت احمدیہ سے رویہ نہایت افسوسناک تھا اور حالات کی نزاکت کے پیش نظر حفظ ما تقدم کے طور پر احباب جماعت کو ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کرنا مقصود تھا۔اس مضمون میں حضور نے قربانی کی حقیقت اور جماعت احمدیہ کی ذمہ داری پر روشنی ڈالی ہے اور قربانی کے فلسفہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ جماعت کو صرف جانی قربانی کی ضرورت نہیں بلکہ ہر میدان میں قربانیوں کی ضرورت ہے۔نیز آپ نے یہ بھی وضاحت فرمائی کہ احمدیت کے جانی قربانی کے مطالبہ سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ کسی محاذ پر جا کر جنگ کرتے ہوئے جان قربان کرنا ، بلکہ احمدیت کے لئے قربانی دینے کا مطلب امام کی آواز پر لبیک کہنا ہے۔حضور نے اپنے اس مضمون میں جس قربانی کا مطالبہ کیا ہے وہ ہر حال میں سچائی اور راستی کو اختیار کرنا ہے جس کی خاطر خواہ جان کی قربانی دینی پڑے، خواہ جذبات کی قربانی دینی پڑے اور خواہ اپنے تمام حقوق سے محروم ہونا پڑے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔یا د رکھو کہ جن قربانیوں کا میں پہلی قسط کے طور پر مطالبہ کر رہا ہوں معمولی قربانیاں نہیں ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ نفس کو مارنا دشمن کو مارنے سے بہت زیادہ مشکل کام ہے۔اگر جماعت صداقت کے اس معیار کو قائم کر دے جسے سلسلہ احمدیہ پیش کرتا ہے تو یقیناً اُسے کوئی دشمن نقصان نہیں پہنچا سکتا۔کمزوری ہماری ہی طرف