انوارالعلوم (جلد 15) — Page 50
انوار العلوم جلد ۱۵ نا جائز تصرف ہے۔انقلاب حقیقی حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے خیالات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یورپ کے دماغوں میں تنزل پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے اور دراصل حکومتوں میں خلل ایسے ہی ناقص الخلقت لوگوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ اب چونکہ تمدن کا خیال راسخ ہو گیا ہے اب یہ خیال تو نہیں آتا کہ حکومت سرے سے اُڑا دی جائے ہاں یہ خیال آتا ہے کہ شاید اس کی جگہ دوسری حکومت ہو تو وہ ہمارے حقوق کا زیادہ خیال رکھے اور اس وجہ سے تغیر کی کوششیں کی جاتی ہیں۔مگر وحشی قبائل کی اب بھی یہی حالت ہے کہ وہ حکومت اور تمدن کو ہر رنگ میں نا پسند کرتے ہیں اور اسے برداشت کرنا ان پر سخت گراں گزرتا ہے اور وہ دوسروں کی دخل اندازی پر سخت حیران ہوتے ہیں۔مثلاً ان کے ننگا پھر نے پر اگر حکومت معترض ہو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ننگے پھرتے ہیں تو کسی کا کیا حق ہے کہ وہ ہمیں کپڑے پہنائے ؟ ہمیں ننگا رہنے سے ہوا لگتی ہے اور مزا آتا ہے ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ہماری آزادی میں کوئی اور مداخلت کرے۔چنانچہ برطانوی تصرف کی ابتداء میں جب ننگے حبشی افریقہ کے شہروں میں داخل ہونے کے لئے آتے تو شہر کے دروازوں پر حکومت کی طرف سے افسر مقرر ہوتے تھے وہ انہیں تہہ بند دے دیتے تھے اور کہتے تھے کہ تہہ بند پہن کر شہر جا سکتے ہو ننگے نہیں جاسکتے۔اس پر وہ تہہ بند باندھ تو لیتے مگر ادھر اُدھر دیکھتے بھی جاتے کہ کہیں کوئی حبشی ان کی اس بے حیائی کو تو نہیں دیکھ رہا اور جب وہ ایک دوسرے کو دیکھتے تو آنکھیں بند کر لیتے کہ ایسی بے حیائی ہم سے دیکھی نہیں جاتی۔پھر جب شہر سے نکلتے تو جلدی سے تہہ بند افسر کی طرف پھینک کر بھاگ جاتے۔بلکہ اب تو یورپ میں بھی بعض ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو ننگے رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی نگا ر ہنے کی تلقین کرتے ہیں۔بلکہ ایک دفعہ تو اس بات پر لڑائی ہوگئی کہ وہ لوگ زور دیتے تھے کہ ہم ننگ دھڑنگ شہر میں داخل ہونا چاہتے ہیں اور پولیس یہ کہتی کہ کپڑے پہن کر آؤ۔وہ کہتے تم ہوتے کون ہو جو ہماری آزادی میں دخل دیتے ہو؟ تم آنکھیں بند کر لو اور ہماری طرف نہ دیکھو۔مگر تم ہمیں مجبور کیوں کرتے ہو کہ ہم ضرور کپڑے پہنیں؟ آخر جب جھگڑا بڑھا تو پولیس کو گولی چلانی پڑی۔یہ بھی یورپ کے تنزل کی ایک علامت ہے کہ اب وہاں کے ایک طبقہ کی دماغی طاقتیں بالکل کمزور ہوگئی ہیں۔یورپ میں بعض کہیں ایسی ہیں کہ ایسا شخص کسی صورت میں بھی ان کا ممبر