انوارالعلوم (جلد 15) — Page 49
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی غرض جب فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اب تمدن کے قیام پر اعتراضات دنیا میں نظام قائم ہونے والا ہے تو وہ بہت حیران ہوئے اور انہوں نے سوچا کہ اس نئے قانون کے ماتحت اگر آدم خون کرے گا تو کہا جائے گا کہ یہ بڑا نیک ہے اگر آدم لوگوں سے زبردستی ٹیکس لے گا تو کہا جائے گا کہ یہ بڑا شریف ہے یہ عجیب فلسفہ ہے۔آج ہم اس سوال کی اہمیت کو پوری طرح نہیں سمجھ سکتے لیکن جب یہ قانون نیا نیا جاری ہوا ہو گا لوگ سخت حیرت میں پڑ گئے ہوں گے۔اب بھی جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو اس قانون پر معترض ہیں۔چنانچہ وحشی قبائل اب تک کہتے ہیں کہ گورنمنٹ کیوں قتل کرتی ہے؟ اگر کوئی شخص ہم میں سے کسی کو قتل کرے گا تو ہم خود اسے قتل کریں گے گورنمنٹ کو خواہ مخواہ درمیان میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے؟ اور انہیں تسلی نہیں ہوتی جب تک خود انتقام نہ لے لیں۔یہ انسانی دماغ کی ابتدائی حالت تھی اور بوجہ تعلیم کی کمی کے آج بھی بعض لوگوں کے اندر پیدا ہو جاتی ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ فرشتے اس پر اعتراض نہیں کرتے کہ نسلِ آدم کی پیدائش سے قتل اور خون ہوگا بلکہ اس پر کہ انسانوں پر ایک ایسا شخص مقرر کیا جائے گا جو یہ بُرے افعال کرے گا اور اس کے ان افعال کو جائز قرار دیا جائے گا۔یہ ایک ایسا ذہنی انقلاب تھا کہ اُس وقت کے لحاظ سے اس کو دیکھ کر عقلیں چکرا گئی ہونگی اور لوگوں پر اس نظام کو تسلیم کرنا کہ ایک شخص ان کے مالوں پر ان کی مرضی کے خلاف قبضہ کرے اور ان میں سے بعض کو پھانسی تک دے سکے اور اس کا یہ فعل جائز قرار دیا جائے سخت ہی گراں گزرتا ہو گا۔وہ کہتے ہوں گے کہ ہم نے ایک شخص کو مار دیا ہے تو یہ اس کے رشتہ داروں کا معاملہ ہے وہ جانیں اور ہم جانیں یہ شخص بیچ میں گودنے والا کون ہے۔چنانچہ آج بھی ناقص الخلقت لوگ انہی وہموں میں پڑے رہتے ہیں اور حکومتوں میں خلل ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔چنانچہ بھیجیم نے تو غالباً پھانسی کی سزا اُڑا ہی دی ہے اور وہ محض اسی نقطہ نگاہ سے اُڑائی ہے جو میں نے بتا یا ہے۔اگر وہ لوگ جن کے کہنے پر پھانسی کی سزا اُڑائی گئی میرے سامنے ہوتے تو میں انہیں کہتا کہ پھانسی کی سزا تم مٹاتے ہو تو ٹیکس کا طریق کیوں نہیں اُڑاتے وہ بھی تو دوسروں کے اموال پر