انوارالعلوم (جلد 15) — Page 552
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاروں اماموں کی تربیت خود فرمائی اگر یہ مشابہت نہ ہوتی تو پھر كَمَا صَلَّيْتَ اور كَمَا بَارَکتَ کے معنی ہی کیا ہوتے۔پھر تو یہ تسلیم کرنا پڑتا کہ شاید حضرت ابراہیم علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا درجہ رکھتے ہیں۔پس ابراہیمی وعدہ اور در ودمل کر صاف بتاتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ایسا ہی ہونے والا تھا اور آپ کے بعد بھی آپ کے دین کی تمکین کیلئے خلفاء آنے والے تھے۔اگر کہو کہ وہ خلفاء تو نبی تھے یہ تو نبی نہ تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اولاد کے امام ہونے کے درحقیقت دو وعدے تھے ایک تو قریب عہد میں اور ایک بعید عہد میں جس میں موسیٰ اور عیسی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود شامل تھے۔اللہ تعالیٰ کی حکمت نے تقاضا کیا کہ قریب عہد کے امام خلیفہ امام ہوں اور بعید کا خلیفہ نبی خلیفہ ہو۔چنانچہ خلفائے راشدین عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَانُبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ کے ماتحت انبیاء سے شدید مشابہت رکھتے تھے مگر نبی نہ تھے اور آخری خلیفہ ایک پہلو سے اُمتی اور ایک پہلو سے نبی ہوا تا کہ مشابہت میں نقص نہ رہ جائے۔اب دیکھو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں ان خلفاء نے ان چار انبیاء سے زیادہ تمکین دین کی ہے اور یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کا ایک زبر دست ثبوت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک تحریر بھی اس الجھن کو دور کر دیتی ہے۔آپ الوصیۃ میں تحریر فرماتے ہیں:۔وو ' تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق " کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّ لَنَّهُمْ مِّن بَعْدِ خوفهم آمنا۔۔۔۔ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوا۔۱۳ اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس آیت میں حضرت موسیٰ کے نبی جانشین سے حضرت ابو بکر کی مشابہت کو تسلیم کیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بھی اس پر روشنی ڈالتی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔لَوْ كَانَ نَبِيٌّ بَعْدِي لَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابُ ٥٣ یعنی اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو -