انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 26

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی تمدن اور تہذیب کو دُنیا میں قائم کرتے ہیں ) وَإِذا بَطَشْتُم بطشتم جبارین سے یہ استنباط بھی ہو سکتا ہے کہ آلات جنگ کی ایجاد کا کمال انہیں کے زمانہ میں ہوا۔چنانچہ جس رنگ میں انہوں نے پہاڑوں میں عمارتیں بنائیں ہیں ، ان سے بعض مؤرخین نے نتیجہ نکالا ہے کہ اس قوم نے بارود اور ڈائنامیٹ ایجاد کر لیا تھا۔ان معنوں کی رُو سے آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ تم ایسے ایسے سامان جنگ ایجاد کرتے ہو جو نہایت ہی مہلک ہیں اور تم ان کے ذریعہ سے باقی اقوام کو تباہ کر کے اپنی تہذیب اور اپنا تمدن قائم کرنا چاہتے ہو۔موجودہ مغربی تہذیب کی بنیاد بھی ایک فلسفہ پر ہے اور وہ تہذیب مغربی کا فلسفہ فلسفہ مادیت کا فلسفہ ہے جس کی بنیا د مشاہدہ اور تجربہ پر ہے۔اسی فلسفہ کی وجہ سے مغربی تہذیب نے قومیت کا شدید احساس پیدا کر لیا ہے۔خالص قربانی انسان تبھی حاصل کر سکتا ہے جب وہ سمجھتا ہو کہ اس دُنیا کے علاوہ بھی کوئی اور دُنیا ہے اور اگر میں نے دوسروں کیلئے قربانی کی تو گوئیں اس دنیا کا نفع حاصل نہ کروں مگر مجھے روحانی فائدہ پہنچے گا لیکن جس کو یقین ہو کہ جو کچھ ہے یہی دُنیا ہے وہ کہتا ہے کہ جو کچھ ملے مجھے ہی ملے کسی دوسرے کو نہ ملے۔پس انتہائی نیشنلزم (NATIONALISM) مادیت کا نتیجہ ہے اور پھر اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ تعیش پیدا ہو جاتا ہے۔ہر قسم کے آرام کے سامانوں ، کھانے پینے اور پہننے کے سامانوں میں زیادتی کی خواہش بھی مادیت سے ہی پیدا ہوتی ہے۔کیونکہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ میں نے حاصل کرنا ہے اسی دُنیا میں حاصل کرنا ہے۔پس جو مزہ اُڑایا جا سکتا ہے اُڑالو یہی وجہ ہے کہ مغربی تہذیب نے تعیش کو کمال تک پہنچا دیا ہے۔رومن تہذیب اور مغربی تہذیب میں رومن اور مغربی تہذیب میں فرق فرق ہے کہ رومیوں میں قانون کی حکومت تھی اور اس وجہ سے ان کا فلسفہ گلیات سے جزئیات کی طرف رجوع کرتا تھا۔چنانچہ رومی تہذیب اور فلسفہ میں میں یونانی تہذیب اور فلسفہ کو شامل سمجھتا ہوں۔فلسفہ کی تمام شاخیں اسی اصول کے تابع ہیں۔ان کی طب کو دیکھو اس کی بنیاد گلیات پر رکھی گئی ہے اور پھر اس سے جزئیات اخذ کی گئی ہیں۔ان کے فلسفہ الہیات کا بھی یہی حال ہے۔پہلے گلیات تجویز کر کے پھر جزئیات کو ان سے