انوارالعلوم (جلد 15) — Page 27
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی اخذ کیا گیا ہے۔سیاست کا بھی یہی حاصل ہے کہ کچھ گلیات تجویز کر کے ان سے جو ئیات کو اخذ کیا گیا ہے لیکن موجودہ مغربی تہذیب کی بنیاد چونکہ مادیت پر ہے یعنی مجزئیات کے تجربہ اور مشاہدہ پر اُن کے ہاں سب زور جزئیات پر ہے۔گلیات کو یا تو یہ لوگ جزئیات سے اخذ کرتے ہیں یا پھر گلیات کے وجود ہی کو لغو اور فضول قرار دے دیتے ہیں۔ایک یونانی طبیب ہر بیماری کو چاروں خلطوں میں محصور قرار دے کر گلیات طب سے مرض کی تشخیص اور علاج کرتا ہے۔مگر ایک طبّ جدید کا ماہر ہر مرض کی مخصوص علامات کا پتہ لگا کر انہی مخصوص علامات کے مطابق اس کا علاج کرتا ہے۔۱۸ اور قطعا اس کی ضرورت نہیں سمجھتا کہ تمام امراض کو کسی خاص سلسلہ کی کڑی قرار دے۔جہاں تک معلومہ تاریخ کا تعلق ہے دنیوی تحریکوں میں سے یہی پانچ تحریکیں دُنیا میں نظر آتی ہیں اور تمام دنیا کی حکومتوں اور علوم اور تہذیبوں پر ان کا اثر معلوم ہوتا ہے۔باقی سب حکومتیں اور فلسفے ان کے تابع نظر آتے ہیں۔انہیں اگر ان سے اختلاف ہے تو بجزوی ہے۔بعض فلسفے ان کے فلسفوں سے جدا ہو کر بظاہر ایک نئی صورت اختیار کر گئے ہیں اور بعض بہت تھوڑے تغیر سے انہی فلسفوں کے ترجمان بن گئے ہیں۔ان پانچوں تحریکوں کی کامیابی کی وجہ بڑی بڑی تحریکوں کی کامیابی کا سبب یہی تھی کہ ان کے ساتھ ایک پیغام تھا۔وہ صرف تلوار سے ملک کو فتح نہیں کرتے تھے بلکہ اس ملک کے ذہنوں کو بھی اپنا غلام بناتے تھے اس لئے جب ان کی حکومت تباہ بھی ہو جاتی تو ان کا فلسفہ تباہ نہ ہوتا اور وہی غلام اس فلسفہ کو لے کر دُنیا میں حکومت کرنے لگ جاتے تھے اور اس طرح ایک ذہنی اور علمی تناسل کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ان تحریکوں کے بانی سنتِ الہی کے ماتحت کچھ عرصہ تک حکومت کر کے مٹ گئے مگر ان کی تحریکیں دیر تک قائم رہیں اور آج تک بھی ان میں سے کئی کا وجود مختلف صورتوں میں پایا جاتا ہے۔چنانچہ ہندوستان میں اب تک آرین تہذیب کا یہ اثر موجود ہے کہ برہمن اور کھتری ، شودر کو اپنے پاس تک پھٹکنے نہیں دیتے۔کچھ عرصہ ہو امدر اس کا ایک واقعہ بعض اخبارات نے بیان کیا تھا جو یہ ہے کہ ایک برہمن کے بیٹے نے کسی چہارن سے شادی کر لی۔ماں باپ نے اس کا گھر الگ کر دیا اور وہ علیحدہ اس چمارن کے ساتھ رہنے لگ گیا۔ایک دن ماں باپ نے کہا کہ اپنے بیٹے کا ایمان دیکھنا چاہئے کہ کہیں چمارن سے شادی کر کے اس کا دھرم تو نہیں جاتا رہا۔چنانچہ انہوں نے اسے ایک دن گھر