انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 402

انوار العلوم جلد ۱۵ بسم تقریر بجواب ایڈریس ہائے جماعتہائے احمدیہ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تقریر بجواب ایڈریس ہائے جماعتہائے احمدیہ ( تقریر فرموده ۲۸ / دسمبر ۱۹۳۹ء بر موقع جلسه خلافت جوبلی ) تشہد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں جب سے تقریر کے میدان میں آیا ہوں اور جب سے مجھے تقریر کرنے یا بولنے کا موقع ملا ہے میں نے شروع دن سے یہ بات محسوس کی ہے کہ ذاتی بناوٹ کے لحاظ سے تقریر کرنا میرے لئے بڑا ہی مشکل ہوتا ہے اور میری کیفیت ایسی ہو جاتی ہے جسے اُردو میں گھبرا جانا کہتے ہیں اور انگریزی میں NERVAUS ہو جانا کہتے ہیں۔میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ اپنی دماغی کیفیت کے لحاظ سے میں ہمیشہ نروس ہو جاتا ہوں یا گھبرا جاتا ہوں۔مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی تقریر کی اور اس کے لئے کھڑا ہوا تو آنکھوں کے آگے اندھیرا آ گیا اور کچھ دیر تک تو حاضرین مجھے نظر نہ آتے تھے اور یہ کیفیت تو پھر کبھی پیدا نہیں ہوئی لیکن یہ ضرور ہوتا ہے کہ ایک خاص وقت میں جس کی تفصیل میں آگے چل کر بیان کروں گا میرے دل میں ایک اضطراب سا پیدا ہو جاتا ہے لیکن وہ حالت اُس وقت تک ہوتی ہے جب تک کہ بجلی کا وہ کنکشن قائم نہیں ہوتا جو شروع دن سے کسی بالا طاقت کے ساتھ میرے دماغ کا ہو جایا کرتا ہے اور جب یہ دور آ جاتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے تمام بڑے بڑے مقرر اور لستان جو اپنی اپنی زبانوں کے ماہر ہیں میرے سامنے بالکل بیچ ہیں اور میرے ہاتھوں میں کھلونے کی طرح ہیں۔جب میں پہلے پہل تقریر کے لئے کھڑا ہوا اور قرآن کریم سے آیات پڑھنے لگا تو مجھے الفاظ نظر نہ آتے تھے اور چونکہ وہ آیات مجھے یاد تھیں میں نے پڑھ دیں لیکن قرآن گو میرے سامنے تھا مگر اس کے الفاظ مجھے نظر نہ آتے تھے اور جب میں نے آہستہ آہستہ تقریر شروع کی تو لوگ میری نظروں کے سامنے سے بالکل غائب تھے۔اس کے بعد یکدم یوں معلوم ہوا کہ کسی بالا طاقت کے ساتھ میرے دماغ کا