انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 327

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) مگر قرآن کا سمندر پھر بھی بھرا ہوا ہو گا اور اس کے معارف ختم ہونے میں نہیں آئیں گے۔اِنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَکیم کیونکہ اللہ غالب حکمت والا ہے۔غالب ہونے کی وجہ سے اس نے وہ وسعت قرآنی معارف کو بخشی ہے کہ اگر تمام درخت قلمیں بن جائیں اور تمام سمندر سیاہی بن جائیں اور ان سے اس کے معارف لکھے جائیں ، پھر بھی وہ ختم ہونے میں نہ آئیں۔مگر وسعت بعض دفعہ لغو بھی ہو جاتی ہے، بڑے بڑے شاعر جس قدرگزرے ہیں ان کے اشعار میں کسی نہ کسی حد تک لغویت ضرور آ گئی ہے۔اسی طرح جتنے بڑے نثار گزرے ہیں ان تمام کی نثر کے بعض حصوں میں فضولیات پائی جاتی ہیں۔مگر فرمایا یہاں ایسا نہیں ، با وجود قرآنی مطالب اس قدر وسیع ہونے کے اس میں کوئی بات لغو اور بے فائدہ نہیں کیونکہ ایک حکیم ہستی کا یہ نازل کردہ کلام ہے اور جو حکیم خدا کی طرف سے نازل شدہ کلام ہو اس میں لغو بات کس طرح ہو سکتی ہے۔پس ایک طرف تو قرآنی معارف میں اس قدر وسعت ہے کہ سات سمندروں کی سیاہی ختم ہو جائے مگر اس کے معارف ختم نہ ہوں اور دوسری طرف اس میں ایک بات بھی خلاف حکمت نہیں بلکہ ایک ایک بات کو دیکھ کر انسان قربان ہو جاتا ہے۔پھر سورہ دخان رکوع ایک میں فرماتا ہے۔خط وَ الْكِتَبِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنْزَلْنَهُ في ليلةٍ مُّبَرَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ - أَمْرًا مِّن عِنْدِنَا إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ - ے کہ حمید مجید خدا کی طرف سے ایک کتاب آئی ہے جو کھول کھول کر تمام سچائیوں کو بیان کرنے والی ہے اور میں اسی کتاب کو اس بات کی شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں کہ تمہارا خدا بڑا بزرگی والا خدا ہے ہم نے یہ قرآن ایک ایسے تاریک زمانہ میں اُتارا ہے جو رات سے مشابہت رکھتا تھا اور جس میں قسم قسم کی تباہیاں اور قسم قسم کے گند اور فساد تھے مگر باوجود ان فسادوں کے وہ زمانہ ایک لحاظ سے مبارک بھی تھا کیونکہ إِنَّا كُنَّا مُنذرین۔اس میں خدا کی طرف سے یہ آواز بلند ہوئی تھی کہ ہوشیار ہو جاؤ۔گو تمہارے گھر ڈاکوؤں کا شکار ہورہے ہیں مگر اب خدا خود تمہاری حفاظت کیلئے آ رہا ہے۔پس ہم نے خود اس کتاب کے ذریعہ اپنے بندوں کو ہوشیار اور بیدار کیا۔منذر کے عام طور پر نہایت غلط معنے کئے جاتے ہیں، یعنی اُردو میں اس کا ترجمہ یہ کیا جاتا ہے کہ ہم ڈرانے والے ہیں ، حالانکہ عربی زبان میں انذار کے معنے ڈرانا نہیں بلکہ ہوشیار اور بیدار کرنا ہیں۔تو فرمایا گو یہ رات تھی اور تاریک رات تھی، چاروں طرف ڈا کے پڑ رہے تھے اور