انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 328

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) دین وایمان کہیں نظر نہیں آتا تھا مگر پھر بھی یہ مبارک رات تھی کیونکہ اس میں خدا خود چوکیدار بن کر آیا اور اُس نے خود پہرہ دیا اور آوازیں دیں کہ میرے بندو! ہوشیار ہو جاؤ ، بھلا اس سے زیادہ مبارک رات اور کونسی ہو سکتی ہے۔فيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ - یہ مبارک رات کیوں نہ ہو، راتوں کے وقت چوروں کی طرف سے مال اُٹھایا جاتا ہے مگر اس رات میں لوگوں کو خود ہماری طرف سے مالا مال کیا جا رہا ہے اور انہیں بلا بلا کر کہا جارہا ہے کہ آؤ اور اپنے گھروں کو برکتوں سے بھر لو۔آمرا من عِندِنَا یہ سب کچھ ہمارے حکم کے ماتحت ہو رہا ہے کیونکہ آج ہم اس بات پر تلے ہوئے ہیں کہ لوگوں کو نعماء سے مالا مال کر دیں۔پس اس سے زیادہ مبارک رات اور کون سی ہوسکتی ہے کہ بغیر مانگے اور سوال کئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانی ضرورتیں پوری کی جا رہی ہیں۔آمر حکیم سے مراد وہی معارف اور علوم ہیں جو بغیر کسی انسانی کوششوں کے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کھولتا ہے۔اگر کوئی شخص روٹی کھا رہا ہو اور کوئی دوسرا آ کر اُسے کہے کہ تو روٹی کھا رہا ہے تو وہ حکیم نہیں کہلا سکتا ، حکیم وہی کہلائے گا جو ایسی بات بتائے جس کا دوسرے کو علم نہ ہو۔پس قرآن صرف کلام ہی نہیں بلکہ آمر حکیم ایسے حقائق اور معارف کا حامل ہے کہ بندے لاکھ سر پٹکتے رہتے وہ ان علوم اور معارف کو اپنی ذاتی جد و جہد سے کبھی حاصل نہ کر سکتے۔اسی طرح سورہ یوسف میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے متعلق فرماتا ہے۔ما كان حديثا يفترى ولكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَ تَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى و رَحْمَةٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ٤٨ کہ یہ بات جھوٹی نہیں۔یہ پہلی کتابوں کی پیشگوئیوں کو پورا کر رہی ہے اور ہر چیز اس میں بیان کر دی گئی ہے اور یہ مؤمنوں کی ہدایت اور رحمت کا موجب ہے۔(۵) سوره عنکبوت میں فرماتا ہے۔اولم يكفهم انا انزلنا عليك الكتب يُثلي عَلَيْهِمْ، إن في ذلِكَ لَرَحْمَةَ و ذكرى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ٤٩ ارے! اب بھی ان کو کسی اور جگہ جانے کی ضرورت ہے جب کہ ہم نے انہیں اتنی بڑی چیز دیدی ہے جس کی اور کہیں مثال ہی نہیں ملتی۔یعنی ہم نے ایک کتاب اُتار دی ہے اور وہ ایسی کتاب ہے کہ يثنى عليهم سمندر کے پاس تو لوگ جاتے ہیں مگر یہ سمند ر ایسا ہے کہ آپ تمہارے پاس چل کر آ گیا ہے۔پھر دنیا میں تو لوگ اُستادوں کے پاس جاتے اور ان سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں بتایا جائے فلاں بات کس طرح ہے مگر یہاں وہ استاد بھیجا گیا کہ