انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 317

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) کے عیسوی سن معلوم کرتے ہیں اور اس طرح خواہ مخواہ مسلمان بھی عیسوی سن کو اپنے اندر رائج کئے ہوئے ہیں۔میرے نزدیک ضروری تھا کہ جس طرح ہجری قمری بنائی گئی تھی اسی طرح ہجری شمسی بھی بنائی جاتی اور ان دونوں سے فائدہ اُٹھایا جاتا ، مگر مجھے یہ بات جنتر منتر کو دیکھ کر سو جھی اور میں نے اُسی وقت سے تہیہ کر لیا کہ اس بارہ میں کامل تحقیق کر کے عیسوی شمسی سن کی بجائے ہجری شمسی سن جاری کر دیا جائے گا۔جب میں واپس آیا تو اتفاق کی بات ہے کہ مجھے اس بارہ میں اپنی لائبریری سے ایک کتاب بھی مل گئی۔میرے ساتھ خدا تعالیٰ کی یہ عجیب سنت ہے کہ مجھے جب بھی کسی چیز کی شدید ضرورت ہو وہ آپ ہی آپ میرے سامنے آجاتی ہے بعض دفعہ مجھے قرآن کریم کی آیتوں کے حوالوں کی ضرورت ہوتی ہے اور اُس وقت کوئی حافظ پاس ہوتا نہیں تو میں نے اکثر دیکھا ہے کہ ایسے وقت میں بسا اوقات جب قرآن کھولتا ہوں تو وہی آیت سامنے آ جاتی ہے جس کی مجھے ضرورت ہوتی ہے۔گزشتہ سال میں نے جلسہ سالانہ پر جو تقریر کی ، اُس کے نوٹ لکھنے کی مجھے فرصت نہیں مالتی تھی۔ایک دن میں نے اس کا چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب سے ذکر کیا تو وہ ہنس کر کہنے لگے کہ میں نے تو دیکھا ہے جب بھی آپ کو فرصت نہ ملے اُس وقت خدا تعالیٰ کی خاص تائید ہوتی ہے چنانچہ واقعہ میں ایسا ہی ہو ا جب میں نوٹ لکھنے کے لئے بیٹھا جس کے لئے بہت سے حوالوں کی ضرورت تھی تو وہ حیرت انگیز طور پر جلد جلد نکلتے گئے حتی کہ ایک عجیب بات یہ ہوئی کہ بعض حوالہ جات کی مجھے ضرورت پیش آئی مگر میرا ذہن اُس طرف نہ جاتا تھا کہ وہ حوالہ جات کس کتاب میں سے ملیں گے۔ارادہ تھا کہ بعض اور دوستوں کو بلا کر اُن کے سپر د حوالہ جات نکالنے کا کام کر دوں کہ اتفاقاً کسی اور کتاب کی تلاش کے لئے میں نے کتابوں کی الماری جو کھولی تو میں نے دیکھا کہ اس میں چند کتابیں بے ترتیب طور پر گری ہوئی ہیں میں نے انہیں ٹھیک کرنے کے لئے اُٹھایا تو ان میں سے مجھے ایک کتاب مل گئی جس کے لائبریری میں ہونے کا مجھے علم نہیں تھا ، میں نے اُسے کھولا تو اس میں اکثر وہ حوالے موجود تھے جن کی مجھے اُس وقت ضرورت تھی۔اسی طرح میں بعض اور کتابوں کی تلاش کر رہا تھا کہ اتفاقاً ایک کتاب نکل آئی جس کا نام تَقْوِيمُنَا الشَّمُسِسی “ اس میں مصنف نے بحث کرتے ہوئے تاریخی طور پر اس بات کو