انوارالعلوم (جلد 15) — Page 313
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) عذاب مقرر ہو چکا ہے اور جسے خدا ذلیل کرے اُسے کوئی عزت نہیں دے سکتا، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔غرض بتایا کہ دنیا میں جس قدر چیزیں ہیں وہ سب ایک قانون کے ماتحت چل رہی ہیں ، سورج کیا اور چاند کیا اور ستارے کیا اور پہاڑ کیا اور درخت کیا سب ایک خاص نظام کے ما تحت حرکت کرتے ہیں اور ہر ایک کے منہ میں لگام پڑی ہوئی ہے پھر تم ان چیزوں کو جن کو خود لگا میں پڑی ہوئی ہیں خدا کس طرح قرار دیتے ہو۔یہ چیزیں تو خود تمہارے آگے آگے بطور خدمت گار چل رہی ہیں مگر تم ایسے احمق ہو کہ تم انہی کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑے ہو اور اس طرح اپنے آپ کو ذلیل کر رہے ہو اور یہ اس امر کی سزا ہے کہ تم نے اپنے پیدا کرنے والے خدا کو چھوڑ دیا۔پس اُس نے تم کو تمہارے ہی غلاموں کا غلام بنا دیا وَ مَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَمَا لَهُ من تكرم اور جسے خدا ذلیل کر دے اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا۔سورج کوضیاء اور چاند کوٹو ر بنایا گیا ہے (۳) تیسری بات مجھے یہ معلوم ہوئی کہ سورج اپنی ذات میں روشن ہے اور چاند دوسرے سے روشنی اخذ کرتا ہے چنانچہ میں نے دیکھا کہ قرآن مجید میں لکھا ہوا ہے۔هُو الذي جَعَل الشَّمْسَ ضِيَاء وَالْقَمَرَ نُورًا وَ قَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عدد السنين والْحِسَابَ ، مَا خَلَقَ اللهُ ذلكَ الَّا بِالْحَقِّ : يُفَصِّلُ الْآيَتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُون ۱۸ کہ خدا ہی ہے جس نے سورج کو ضیاء بنایا اور چاند کونور۔ضیاء کے معنے ہیں اپنی ذات میں جلنے والی اور روشن چیز۔اور نور اُسے کہتے ہیں جو دوسرے کے اثر کے ماتحت روشن ہو۔پس خدا تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بتا دیا کہ سورج تو اپنی ذات میں روشن ہے مگر چاند سورج سے اکتساب نور کرتا ہے۔پھر اسی مضمون کو میں نے ایک اور لطیف طرز میں بھی قرآن کریم میں موجود پایا چنانچہ میں نے دیکھا کہ قرآن مجید میں لکھا ہے۔الم تروا كَيْفَ خَلَقَ اللَّهُ سَبْعَ سَمُوتٍ طِبَاقًا وجَعَل القَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمس سراجا 19 کہ کیا تم نہیں دیکھتے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو کس طرح تہہ بہ تہہ بنایا ہے اور چاند کو اُس نے نور اور سورج کو اس نے سراج بنایا ہے، سراج اُس دیے کو کہتے ہیں جس میں بتی روشن ہو۔پس سراج کا لفظ استعمال کر کے بھی اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ سورج کے اندر خود ایک آگ ہے جس کی وجہ سے اس کی روشنی تمام جہان پر پھیلتی ہے۔موجودہ تحقیق نے بھی یہی ثابت کیا ہے کہ سورج میں ریڈیم کے اجزاء کی وجہ