انوارالعلوم (جلد 15) — Page 304
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) -- ہوئی۔اللہ تعالیٰ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔وان من شيعته لا برهيم - إذْ جَاءَ رَبَّهُ بِقَلْبِ سَلِيمٍ - إذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَ قَوْمه مَاذَا تَعْبُدُونَ - أَيْفكًا الِهَةً دُونَ اللهِ تُرِيدُونَ - فَمَا ظَنُّكُمُ بِرَبِّ الْعَلَمِينَ فنظر نظرةً فِي النُّجُومِ - فَقَالَ إِنِّي سَقِيمُ - فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِينَ - فَرَاء إِلَى الهَتِهِمْ فَقَالَ أَلا تَأْكُلُونَ - مَالَكُمْ لا تَنْطِقُونَ - فَرَاء عَلَيْهِمْ ضَرْبا باليَمِينِ - فَاقْبَلُوا اِلَيْهِ يَرْقُونَ - قَالَ اتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ - والله خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ - قَالُوا ابْنُوا لا بُنْيَانًا فَالْقُوهُ في الجحيم - فَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَهُمُ الْأَسْفَلِينَ - وَقَالَ إني ذاهب إلى ربي سيهدين ١٢ حضرت ابراہیم علیہ السلام اُس قوم سے تعلق رکھتے تھے جوستارہ پرست تھی چنانچہ قرآن مجید میں ہی ایک دوسرے مقام پر ذکر آتا ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ مخالفوں کو چڑانے اور انہیں سمجھانے کے لئے طنزاً کہا کہ فلاں ستارہ میرا رب ہے مگر جب وہ ڈوب گیا تو کہنے لگے کہ یہ خدا کیسا ہے جو ڈوب گیا۔میں تو ایسے خدا کا قائل نہیں ہو سکتا۔اس کے بعد اُ نہوں نے طنزاً چاند کے متعلق کہا کہ وہ میرا رب ہے اور جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہنے لگے میں تو سخت غلطی میں مبتلاء ہو جاتا اگر میرا خدا میری راہبری نہ کرتا ، بھلا وہ بھی خدا ہو سکتا ہے جو ڈوب جائے۔پھر سورج کے متعلق انہوں نے کہا کہ وہ میرا رب ہے مگر جب وہ بھی غروب ہو گیا تو وہ کہنے لگے کہ میں اِن سب مشرکانہ باتوں سے بیزار ہوں۔میرا خدا تو ایک ہی خدا ہے جو زمین و آسمان کا مالک ہے۔تو حضرت ابراہیم علیہ السلام جس قوم میں سے تھے وہ ستارہ پرست تھی اور چونکہ ستاروں کی پرستش نہیں ہو سکتی اس لئے اُنہوں نے مختلف ستاروں کے قائمقام کے طور پر بہت سے بُت بنائے ہوئے تھے اور وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اگر ان بتوں کی عبادت کی جائے تو جس ستارہ کے یہ قائم مقام ہیں اس کی مدد ہمیں حاصل ہو جائے گی۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام جس خاندان میں سے تھے وہ بھی پروہتوں کا خاندان تھا چنانچہ ان کے باپ نے ایک بتوں کی دکان کھولی ہوئی تھی جس پر وہ کبھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی بٹھا دیتا اور بھی ان کے دوسرے بھائیوں کو۔اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اندر بچپن سے ہی سعادت کا مادہ رکھا ہوا تھا، چنانچہ یہودی روایات ( طالمود) میں آتا ہے کہ ایک دن ان کا بھائی انہیں دُکان پر بٹھا گیا اور بتوں کی قیمت وغیرہ بتا کر کہہ گیا کہ اگر کوئی گاہک آئے تو اُسے بُت دیدینا۔تھوڑی دیر ہی