انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 297

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) لوگ ہیں جنہیں ہم نے کتاب دی اور حکم بخشا اور نبوت عطا فرمائی۔اگر ان لوگوں کے بعض منکر ہیں تو یقیناً ہم نے ایسے لوگ بھی بنادیئے ہیں جو ان کی قدر و عظمت کو سمجھتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی۔پس اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ یہ لوگ کرتے رہے ہیں تو بیشک وہی کام کر۔کیونکہ انہوں نے کوئی کام ہدایت کے خلاف نہیں کیا اور لوگوں سے کہدے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، یہ قرآن تو دنیا کے لئے نصیحت اور ہدایت کا ذریعہ ہے۔اگر لوگ ان باتوں کو مان لیں گے تو اس میں اُن کا اپنا فائدہ ہے اور اگر انکار کریں گے تو اس کا نقصان بھی انہیں ہی برداشت کرنا پڑیگا۔اب قرآن تو یہ کہتا ہے کہ یہ سب لوگ نیک اور راستباز تھے، مگر جب میں نے غیر مذاہب کی تعلیموں کو دیکھا تو مجھے ان میں نظر آیا کہ کوئی کہہ رہا ہے ابراہیم نے جھوٹ بولامیں نے ایک نظر اس الزام پر ڈال کر جب قرآن کو دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ قرآن اس کی تردید کر رہا ہے، اسی طرح پرانے آثار میں اسحاق اور یعقوب کے متعلق عجیب عجیب قصے پائے جاتے ہیں ، اسحاق کے متعلق بھی کہا جاتا ہے کہ اُس نے جھوٹ بولا اور یعقوب کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے فریب سے نبوت حاصل کی ،مگر یہاں آکر دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ اسحاق اور یعقوب میں کوئی نقص نہ تھا۔اسی طرح نوح کے متعلق جب میں نے بائبل کے مطابق اس کے آثار کو دیکھا تو وہاں مجھے یہ نظر آیا کہ نوح شراب پیا کرتا تھا ، داؤد کے متعلق یہ کہا جاتا تھا کہ وہ قاتل اور خونریز تھا ، مگر قرآنی آثار قدیمہ میں مجھے ان میں سے کوئی بات دکھائی نہ دی، بلکہ اس کے برعکس یہ لکھا ہوا پایا کہ یہ لوگ معصوم تھے انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔اسی طرح سلیمان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کفر کیا ، ایوب کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بے صبری دکھائی، یوسف کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ چور تھا۔اسی طرح موسیٰ کے متعلق کئی قسم کے اعتراض کئے جاتے ہیں اور ہارون کے متعلق تو کھلے طور پر کہا جاتا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل کے سامنے بچھڑا بنا کر رکھ دیا اور انہیں کہا کہ یہی تمہارا خدا ہے یہی حال زکریا ، بینی، عیسی ، الیاس ، اسمعیل ، الیسع ، یونس اور لوط وغیرہ کا ہے اور کرشن ، رامچندر اور زرتشت کے اپنے قومی آثار قدیمہ بھی اُن کے متعلق ایسی ہی روشنی ڈالتے ہیں جو اُن کو اچھی شکل میں پیش نہیں کرتے اور میں نے دیکھا کہ ان کے لباس جو لوگ بتاتے ہیں وہ نہایت چھٹے پرانے اور میل کچیل سے بھرے ہوئے تھے مگر جب قرآن کریم کے آثار قدیمہ کے کمروں کو میں نے دیکھا تو ان میں ہر نبی کا لباس نہایت صاف ستھرا اور پاکیزہ