انوارالعلوم (جلد 15) — Page 286
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) کر اس وقت تک لاکھوں کروڑوں نہیں ہزاروں سال گزرے ہیں، لیکن حیوانات آدم کے زمانہ سے تو شروع نہیں ہوئے وہ تو لاکھوں کروڑوں سال ہی سے موجود ہیں اور آدم کے بعد کے زمانہ نے اس میں کسی قدر زیادتی ہی کی ہے، پس لاکھوں کروڑوں سالوں کے بعد جو تغیر ہونا ضروری تھا وہ آج بھی اسی طرح ہونا چاہئے جس طرح کہ ہزاروں سال پہلے ہو ا تھا، کیونکہ زمانہ اس کے بعد ممتد ہو رہا ہے سکڑ نہیں رہا۔بلکہ حق یہ ہے کہ لاکھوں کروڑوں سال کے بعد جو تغیر حیوانات میں ہو ا تھا وہ پہلی دفعہ کے بعد جاری ہی رہنا چاہئے تھا کیونکہ لاکھوں کروڑوں سالوں بعد جن تغیرات سے بشر کا مورث اعلیٰ جانور پیدا ہو ا تھا اگلی صدی میں اور اس سے اگلی صدی میں اور بعد کی بیسیوں اور صدیوں میں بقیہ جانوروں پر اس سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے جس قدر کہ پہلے تغیر کے وقت گزرا تھا۔پس اگر اس قسم کا تغیر ہوا تھا جس کا ذکر ڈارون کے فلسفہ کے قائل کرتے ہیں تو بعد میں وہ تغیر بند نہیں ہونا چاہئے تھا بلکہ جاری رہنا چاہئے تھا سوائے اس صورت کے کہ سابق کے تغیرات ایک بالارادہ ہستی نے ایک خاص غرض اور مقصد کے ماتحت پیدا کئے ہوں اور ان اغراض و مقاصد کے پورا ہونے پر اسی سلسلہ کو بند کر دیا ہو اور یہی ہمارا عقیدہ ہے۔شجرہ آدم کیا چیز ہے؟ اب میں اس سوال کو لیتا ہوں کہ شجرہ آدم کیا چیز ہے؟ میں نے دیکھا ہے بعض لوگوں کو ہمیشہ یہ خیال رہتا ہے کہ وہ شجرہ کیا چیز تھی جس کے قریب جانے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو روکا ، مگر میں کہتا ہوں اس بارے میں سب سے بہتر طریق تو یہ ہے کہ جس بات کو قرآن کریم نے چُھپا یا ہے اُس کو معلوم کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔حضرت آدم علیہ السلام سے کوئی غلطی ہوئی مگر خدا نے نہ چاہا کہ اپنے ایک پیارے بندے کی غلطی دنیا پر ظاہر کرے اور اُس نے اُس غلطی کو چھپا دیا۔اب جبکہ خدا نے خود اُسے چُھپا دیا ہے تو اور کون ہے جو اس راز کو معلوم کر سکے، جسے خدا چُھپائے اُسے کوئی ظاہر کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔یہ بالکل ویسی ہی مثال ہے جیسے اللہ تعالیٰ سورہ تحریم میں فرماتا ہے۔وراة اسر النَّبِيُّ إِلى بَعْضٍ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَاتُ بِهِ وَاظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهُ وَ أَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ فَلَمَّا نَتَاهَا بِهِ قَالتْ من البات هذا قال نتاني العَلِيمُ الخَبِيرُ 19 یعنی اُس وقت کو یا دکر و جب ہمارے نبی نے مخفی طور پر ایک بات اپنی ایک بیوی سے کہی جب اُس بیوی نے وہ بات کسی اور سے کہہ دی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ خبر دیدی کہ تمہاری بیوی نے وہ بات فلاں شخص سے کہہ