انوارالعلوم (جلد 15) — Page xxx
انوار العلوم جلد ۱۵ تعارف کتب خاص گوشوں میں جگہ دے رکھی تھی۔۔۔۔میرے اپنے بچوں میں سے کم ہی ہیں جو مجھے اس کے برابر پیارے تھے“۔مضمون کے آخر میں اپنے اضطراب اور درد کو دُعائیہ الفاظ میں ڈھالتے ہوئے اپنے رب سے یوں عرض کرتے ہیں کہ :۔”اے اللہ تعالیٰ ! یہ نا تجربہ کار روح تیرے حضور میں آئی ہے تیرے فرشتے اس کے استقبال کو آئیں کہ اسے تنہائی محسوس نہ ہو۔اس کے دادا کی رُوح اسے اپنی گود میں اُٹھا لے کہ یہ اپنے آپ کو اجنبیوں میں محسوس نہ کرے۔محمد رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ اس کے سر پر ہو کہ وہ بھی اِس کے رُوحانی دادا ہیں اور تیری آنکھوں کے سامنے تیری جنت میں یہ بڑھے یہاں تک کہ تیری بخشش کی چادر اوڑھے ہوئے ہم بھی وہاں آئیں اور اس کے خوش چہرہ کو دیکھ کر مسرور ہوں اسی دُعا کے ساتھ میں بھی اب تجھے رُخصت کرتا ہوں جا! میری بچی تیرا اللہ حافظ ہو۔اللہ حافظ ہو (۲۴) چاند۔میرا چاند حضرت مصلح موعود۱۹۴۰ ء میں اپنے بعض اہل خانہ کے ہمراہ کراچی تشریف لے گئے اور ایک رات سمند پر سیر کرنے گئے۔اُس رات چاند خوب چمک رہا تھا اور زبردست چاندنی رات تھی۔اس دلکش نظارہ کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر یاد آ گیا اور پچاس سال پہلے کی ایک رات کا نظارہ آپ کی آنکھوں کے سامنے پھر گیا۔چاند کو گل دیکھ کر میں سخت بیکل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اُس میں جمال یار کا پہلے تو حضور نے اس شعر کو گنگنانا شروع کیا۔پھر حضور نے چاند کو مخاطب کر کے اسی جمالِ یار والے محبوب کی یاد میں کچھ شعر ارشاد فرمائے جن کا پہلا شعر کچھ اس طرح پر ہے۔یوں اندھیری رات میں اے چاند تو چپکا نہ کر حشر اک سیمیں بدن کی یاد میں برپا نہ کر