انوارالعلوم (جلد 15) — Page xxv
انوار العلوم جلد ۱۵ تعارف کتب شرمندہ ہوتا اور اپنے اِس ناروا فعل پر ندامت کا اظہار کرتا پس اس سبق کو اچھی طرح یاد رکھو اور دوسروں تک پہنچاد واگر تم اِس تحریک پر عمل کرو گے تو جماعت میں آہستہ آہستہ صحیح تقویٰ پیدا ہو جائے گا اور سوائے ازلی شقیوں کے جن کا کوئی علاج خدا نے مقر ر نہیں کیا باقی سب اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں گے۔اور جماعتی اتحاد کو کسی طرح ضعف نہیں پہنچے گا کیونکہ گو یہ ایک چھوٹا سا نکتہ ہے مگر اسی پر قومی زندگی کی بنیاد ہے۔(۱۸) تقریر بجواب ایڈریس ہائے جماعتہائے احمدیہ حضرت مصلح موعود کی خلافت کے ۲۵ سال پورے ہونے پر ۱۹۳۹ء میں ” خلافت جو بلی کی تقریب منعقد کی گئی۔اس موقع پر مورخہ ۲۸ / دسمبر ۱۹۳۹ء کو ہندوستان اور بیرونی ممالک کی جماعتوں کی طرف سے حضور کی خدمت میں ایڈریس پیش کئے گئے۔یہ تقریر حضور نے ان تمام ایڈریسز کے جواب میں ارشاد فرمائی۔اس تقریر میں حضور نے فرمایا کہ:۔”جب سے یہ خلافت جو بلی کی تحریک شروع ہوئی ہے میری طبیعت میں ہمیشہ ایک پہلو سے انقباض سا رہتا آیا ہے اور میں سوچتا رہا ہوں کہ جب ہم خود یہ تقریب منائیں تو پھر جو لوگ برتھ ڈے یا ایسی یہ دیگر تقاریب مناتے ہیں انہیں کس طرح روک سکیں گے۔اس کے متعلق سب سے پہلے انشراح صدر مجھے مولوی جلال الدین صاحب شمس کا ایک مضمون الفضل میں پڑھ کر ہوا جس میں لکھا تھا کہ اس وقت گویا ایک اور تقریب بھی ہے اور وہ یہ کہ سلسلہ کی عمر پچاس سال پوری ہوتی ہے۔تب میں نے سمجھا کہ یہ تقریب کسی انسان کے بجائے سلسلہ سے منسوب ہو سکتی ہے اور اس وجہ سے مجھے خود بھی اس خوشی میں شریک ہونا چاہئے۔دوسرا انشراح مجھے اس وقت پیدا ہوا جب درنشین سے وہ نظم پڑھی گئی جو آمین کہلاتی ہے۔اس کوسُن کر مجھے خیال آیا کہ یہ تقریب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پیشگوئی کو بھی پورا کرنے کا ذریعہ ہے جو اس میں بیان کی گئی ہے اور اس کا منانا اس لحاظ سے نہیں کہ یہ میری چھپیں سالہ خلافت کے شکریہ کا اظہار ہے بلکہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی بات کے پورا ہونے کا ذریعہ ہے نا مناسب نہیں اور اس خوشی میں میں بھی شریک ہو سکتا ہوں“۔