انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 124

انوار العلوم جلد ۱۵ فیصلہ ہائی کورٹ بمقدمہ میاں عزیز احمد اور جماعت احمد به احمدیہ ہے یقیناً اس میں میرا بھلا ہے اور اسی میں دنیا کا بھلا ہے۔پس اگر میرے دل کا خون ہو کر بہنا تمہارے دلوں کو پاک کر سکے، اگر تم آئندہ کے لئے شریعت اور قانون کی پابندی کو اپنے نفس پر واجب کر لو اور قربانی اور ایثار کے معنی یہ سمجھو کہ جس رنگ میں خدا تم سے قربانی اور ایثار چاہتا ہے نہ وہ ناجائز رنگ جو تم اپنے لئے تجویز کرو تو یقیناً میری قربانی مہنگی نہ ہوگی۔میرے دکھ کوئی قیمت نہ رکھیں گے کیونکہ وہی جان قیمتی ہے جو خدا کے بندوں کے کام آئے۔اگر میری بے عزتی تمہیں عزت دلانے کا موجب ہو، اگر میری ذلّت تم کو ہمیشہ کے لئے ذلت سے بچالے، اگر میرے جذبات کی موت تمہیں اخلاقی زندگی بخش دے تو بخدا میں اس سودے کو نہایت ستاسو دا سمجھوں گا که حکومت در حقیقت خدمت ہی کا نام ہے اور سیادت غلامی ہی کا ہم معنی لفظ ہے۔پس اے بھائیو! اگر تم في الواقع اس غم میں میرے ساتھ شریک ہونا چاہتے ہو تو بجائے دوسروں پر غصہ ہونے کے اپنے نفسوں پر غصے ہو اور اپنے دلوں کو پاک کرو اور چاہئے کہ تم میں سے جو روزوں کی طاقت رکھتے ہیں وہ کچھ روزے رکھ کر دعائیں کریں اور جو نوافل کی طاقت رکھتے ہیں وہ کچھ نوافل پڑھ کر دعا کریں کہ خدا تعالیٰ خود ہی اپنے سلسلہ کا حافظ و ناصر ہو اور اس کی عزت کو قائم کرے اور لوگوں کے دل سے بدظنیاں دُور کرے اور آئندہ کے لئے خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ بے شک بے غیرت کو ایمان نصیب نہیں ہوتا لیکن ظالم کو بھی ایمان نصیب نہیں ہوتا۔تم خدا کے لئے بھی اسی طرح با غیرت بنو جس طرح اپنے نفس کے لئے بلکہ اس سے زیادہ لیکن ساتھ ہی تم خدا کے لئے منصف بھی بنو عادل بھی بنو ظلم سے بچنے والے بھی بنوا اور خدا پر توکل کرو کہ جس کام سے وہ تم کو روکتا ہے اسی لئے روکتا ہے کہ اس کا کرنا تمہارے دین اور دنیا کے لئے مضر ہوتا ہے اور یہ کبھی خیال نہ کرو کہ جہاں خدا تعالیٰ تم کو ہاتھ اٹھانے سے روکتا ہے اس لئے روکتا ہے کہ تم کو بند کرے بلکہ یاد رکھو کہ وہ جب تم کو ہاتھ اٹھانے سے روکتا ہے تو اسی وقت روکتا ہے جب تمہارا ہاتھ اُٹھانا دین اور اخلاق کے لئے مضر ہو اور اس وقت وہ تمہاری عزت کی آپ حفاظت کرتا ہے اور آسمانی تدبیروں سے تمہاری مشکلات کو دور کرتا ہے اور ایسے وقت میں اگر تم اپنی عزت کو اپنے ہاتھ سے قائم کرنا چاہو تو تم اپنی عزت کو بڑھاتے نہیں بلکہ کم کرنے کا موجب ہو جاتے ہو۔کاش! کہ اس موقع پر تم کو یہ سبق یاد ہو جائے۔اگر ایسا ہو تو پھر میرا غم ہلکا ہو جائے گا اور میرا فکر کم ہو جائے گا اور میں اپنے رب کو کہہ سکوں گا کہ اے میرے رب ! دیکھ کہ تیرا بندہ مر کر بھی لوگوں کو زندہ کرنے کا موجب ہو گیا۔کیا تو حی و قیوم ہو کر اسے زندہ نہ کرے گا اور میں یقین رکھتا