انوارالعلوم (جلد 15) — Page 86
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی در حقیقت مسلمان بھلا بیٹھے ہیں اور مغربیت ان پر غالب ہے جس کے بڑے اصول یہ ہیں:۔(۱) مادیت (۲) اس کا لازمی نتیجہ نیشنلزم۔(۳) اور تمام مذہبی اور اخلاقی مسائل کو نیشنلزم کے تابع کرنا۔ان امور نے اخلاق مذہب اور حقیقی قربانی اور دنیا کے امن کو بالکل برباد کر دیا ہے اور مذاہب کی شکل کو مسخ کر دیا ہے۔اب اگر یورپ کے لوگ کسی چیز کا نام مذہب رکھتے ہیں تو اس نقطہ نگاہ سے کہ وہ مذہب ان کی حکومت کو کتنا مضبوط کرتا ہے۔ایک ہندوستانی دماغ اس بات کو سمجھ بھی نہیں سکتا مگر واقعہ یہی ہوتا ہے کہ جرمن میں بغاوت ہوتی ہے اور پادری جب دیکھتے ہیں کہ عیسائیت کی تعلیم انہیں اتنا مضبوط نہیں بناتی کہ وہ بغاوت کو کچل سکیں تو بڑے آرام سے انہیں مذہبی کتاب کے احکام میں تبدیلی کر کے ایک نیا فلسفہ پیش کر دیتے ہیں اور پھر چھوٹے بڑے سب یک زبان ہو کر کہتے ہیں کہ یہ ہمارا مذہب ہے۔ایک مسلمان اس بات کو سمجھ بھی نہیں سکتا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ یہ تو ویسی ہی بات ہے جیسے کسی نے سو بیویاں کرنی ہوں اور وہ دیکھے کہ قرآن میں اس کی اجازت نہیں تو بڑے آرام سے مثنى وثلث کے والی آیت کی جگہ سو عورتوں سے نکاح کرنے والا فقرہ لکھ دے اور پھر کہے کہ میں نے اپنی کتاب کی تعلیم کے مطابق سو بیویاں کی ہیں۔ہر شخص اسے کہے گا کہ تم نے اپنے ہاتھ سے ایک فقرہ لکھا ہے وہ تمہارا خیال تو قرار دیا جا سکتا ہے مگر اسے مذہبی اجازت کس طرح قرار دیتے ہو؟ مگر یورپ والوں کی یہی حالت ہے وہ جب دیکھتے ہیں کہ مذہب کی کسی تعلیم پر عمل کرنے کے نتیجہ میں انہیں قومی لحاظ سے نقصان پہنچ سکتا ہے تو جھٹ اس تعلیم میں تبدیلی کر دیتے ہیں اور ایک نیا فلسفہ ایجاد کر کے اس کا نام مذہب رکھ دیتے ہیں۔گو یا مذہب سے اتنی دُوری پیدا ہو گئی ہے کہ وہ مذہب قومیت کو سمجھنے لگ گئے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو چیز نیشنلزم کو تقویت دے وہی خدا کا منشاء ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اخلاق ہاتھ سے جاتے رہے ہیں اور مذہب بھی ضائع ہو گیا ہے اور نیشلزم پر مذہب کی بنیاد رکھ کر حقیقی قربانی کی روح کو برباد کر دیا گیا ہے۔اب ایک جرمن اس لئے قربانی نہیں کرے گا کہ بنی نوع انسان کو اس سے کیا فائدہ ہوتا ہے بلکہ اس لئے قربانی کرے گا کہ جرمن قوم کو اس سے کیا فائدہ پہنچتا ہے۔یا ایک انگریز اس لئے قربانی نہیں کرے گا کہ دنیا کو اس کی قربانی کی ضرورت ہے بلکہ اسی وقت قربانی کرے گا جب اس کی قوم کا مفاد اس کا تقاضا کرے گا۔