انوارالعلوم (جلد 15) — Page 87
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی ساتویں دور کا انقلاب احیائے تعلیم مصطفوی غرض مادیت اور نیشنلزم اور تمام مذہبی اور اخلاقی مسائل کو نیشنلزم کے تابع کرنے کی روح نے دنیا کے امن کو بالکل بر باد کر دیا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو موجودہ زمانہ میں جو تہذیب الہی کا ساتواں دور ہے بھیجا ہے اور آپ کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ آپ وہ دوسری قسم کا انقلاب پیدا کریں جسے آیت ما ننسخ من أيّةٍ اَوْ نُنسها تأتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا آخر مثلماء کے آخری حصہ میں بیان کیا گیا ہے۔یعنی کبھی انقلاب اس طرح بھی پیدا کیا جاتا ہے کہ کتاب وہی واجب العمل رہتی ہے جو پہلے سے موجود ہومگر خدا تعالیٰ دوبارہ اس کی مُردہ تعلیم کو زندہ کرنے کے لئے ایک انسان اپنی طرف سے کھڑا کر دیتا ہے جو لوگوں کو پھر اس تعلیم پر از سر کو قائم کرتا ہے اور جس کی طرف سورہ جمعہ میں بھی ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ : - هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الأمين رَسُولًا مِّنْهُمْ يثلوا عليهم أيتِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلّمُهُمُ الكتب والحكمة ، وان كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِينٍ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ت وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ٨٠ یعنی وہ خدا ہی ہے جس نے امتیوں میں اپنا رسول بھیجا جو ان پر آیات الہیہ کی تلاوت کرتا ، ان کا تزکیہ نفس کرتا اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، اگر چہ وہ اس سے پہلے کھلی کھلی گمراہی میں مبتلاء تھے اور وہ خدا ہی ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ دنیا میں بھیجے گا اور پھر آپ کے ذریعہ سے ایک ایسی جماعت پیدا کرے گا جو صحابہ کے رنگ میں کتاب جاننے والی پاکیزہ نفس اور علم و حکمت سے واقف ہو گی۔گویا وہی کام جو آنحضرت ﷺ نے کیا نئے سرے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کرنا ہے۔سورۃ صف میں بھی اِس ساتویں دور کا کام بتایا گیا ہے اللہ تعالیٰ بعثت ثانیہ کے کام فرماتا ہے هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَة عَلَى الدِّينِ كُلِّلّهِ وَلَوْكَرِةَ الْمُشْرِكُونَ یعنی ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لائے ہوئے کلام کو ساری دنیا میں پھیلا دے گا اور سب دوسرے ادیان پر غالب کر دے گا۔