انوارالعلوم (جلد 15) — Page 70
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی لعنت ہے۔آپ کا یہ مطلب نہیں تھا کہ نماز لعنت ہے یا روزہ لعنت ہے یا صدقہ لعنت ہے یا غریبوں اور مساکین کی خبر گیری کرنا لعنت ہے بلکہ آپ کا یہ مطلب تھا کہ ظاہر میں نیکی کے اعمال کرنا اور باطن میں ان اعمال کا کوئی اثر نہ ہونا ایک لعنت ہے۔مگر عیسائیوں نے غلطی سے اس کا یہ مطلب سمجھ لیا کہ نماز لعنت ہے روزہ لعنت ہے۔اسی طرح فرمایا۔لن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا ولكن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنكُم ، ۶۵ کہ ظاہری قربانیاں جو تم کرتے ہو وہ خدا تعالیٰ کو نہیں پہنچتیں۔بلکہ خدا تعالیٰ کو وہ اخلاص پہنچتا ہے جس کے ماتحت قربانی کی جاتی ہے اور وہ محبت الہی پہنچتی ہے جو اس قربانی کی محرک ہوتی ہے یہی تعلیم ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی۔جامع جمیع کمالات رُسل غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جامع جمیع کمالاتِ رسل تھے۔آپ میں آدم کے کمالات بھی تھے آپ میں نوٹ کے کمالات بھی تھے آپ میں ابراہیم کے کمالات بھی تھے، آپ میں موسیٰ کے کمالات بھی تھے اور آپ میں عیسی کے کمالات بھی تھے اور پھر ان سب کمالات کو جمع کرنے کے بعد آپ میں خالص محمدی کمالات بھی تھے۔گویا سب نبیوں کے کمالات جمع تھے اور پھر اس سے زائد آپ کے ذاتی کمالات بھی تھے۔پس جو دین آپ لائے وہ جامع جمیع ادیان ہوا اور اس کی موجودگی میں باقی مذاہب میں سے کسی مذہب کی پیروی کی ضرورت نہ رہی۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آیت اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ کے معنی قرآن کریم میں مسلمانوں کو بشارت دی اور فرمایا۔اليومييس الذينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ اليَوْمَ الْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الاسلام دینا ، کفار مایوس ہو گئے ہیں کہ اب اس دین پر غالب آنا ناممکن ہے اور وہ اس کے مقابلہ میں کچھ نہیں لا سکتے۔پس یہ خیال اب نہیں ہو سکتا کہ کافر اپنے زور سے جیت جائیں۔ہاں یہ خیال ہر وقت ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے غافل ہو جاؤ اور اللہ تعالیٰ اپنی مدد واپس لے لے۔پس اس سے ڈرو اور یہ اچھی طرح سمجھ لو کہ قرآن کی موجودگی میں تم پر کا فر کبھی فتح نہیں پاسکتا۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ تم قرآن چھوڑ دو اور گر جاؤ۔پس فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔اب سوال یہ ہے کہ کفار کیوں مایوس ہو گئے ؟ اس کا جواب یہ دیا کہ (۱) دین مکمل کر دیا گیا ہے۔اکمال دین سے مراد شریعت کا نزول اور اس کا قیام ہے کیونکہ