انوارالعلوم (جلد 15) — Page 69
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی کمال کو پہنچ چکی تھی اور اب ایک ایسی شریعت نازل ہوئی تھی جو آخری اور جامع شریعت تھی اس لئے ضروری تھا کہ اس وحی کے الفاظ بھی محفوظ رکھے جاتے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَ قُرانَه فَإِذَا قَرَانَهُ فَاتَّبِہ تُرانه ات کہ موسیٰ کے زمانہ میں تو کلام ہم نازل کرتے تھے اور پھر وہ اپنے الفاظ میں اس کلام کا مفہوم لکھ لیتا تھا اور گومفہوم ہمارا ہی ہوتا تھا مگر الفاظ موسیٰ کے ہو جاتے تھے لیکن تیرے ساتھ ہمارا یہ طریق نہیں بلکہ اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھانا ہمارا کام ہے۔جو ہم کہیں وہی لفظ پڑھتے جانا اور پھر ا سے لکھ لینا اپنے پاس سے اس کا ترجمہ نہیں کرنا۔اسی طرح فرمایا انا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ تحْفِظُونَ " ہم نے ہی یہ قرآن اُتارا ہے اور ہم ہی اس کے لفظوں اور اس کی روح دونوں کے محافظ ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سپر د اس کی حفاظت کا کام نہیں۔پھر آپ میں عیسوی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور عیسوی کمالات سیارات بھی کمالات پائے جاتے تھے۔عیسوی کمالات کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔وآید نه پروج القدمیں کہ ہم نے اس کی روح القدس سے تائید فرمائی۔اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا قُل لَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بالْحَقِّ لِيُتَ الَّذِينَ آمَنُوا وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ ٣ که اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تو لوگوں سے کہہ دے کہ خدا نے یہ کلام روح القدس کے ذریعہ سے نازل کیا ہے سچائی اور حق کے ساتھ۔تامؤمنوں کو یہ مضبوط کرے اور اس میں ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور بشارتیں ہیں۔پھر حضرت عیسی علیہ السلام نے یہ جو کہا تھا کہ شریعت لعنت ہے جس سے آپ کی غرض یہ تھی کہ محض ظاہر کے پیچھے پڑ جانا اور باطنی اصلاح کو ترک کر دینا ایک لعنت ہے اس کے لحاظ سے قرآن کریم نے بھی فرمایا فَوَيْلَ لِلْمُصَلّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هم يراعون ۱۴ کہ لعنت ہے ان پر اور عذاب ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لئے جو نماز کی روح سے غافل ہیں اور نماز محض لوگوں کے دکھاوے کے لئے پڑھتے ہیں۔یہ وہی ڈیل کا لفظ ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے زمانہ میں استعمال کرتے ہوئے کہا کہ محض ظاہر شریعت کی اتباع