انوارالعلوم (جلد 15) — Page 68
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی دوسرے سرے کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔گویا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب ہوئے اور اتنے قریب ہوئے کہ جس طرح کمان کی دونو کیں آمنے سامنے ہوتی ہیں۔اسی طرح میں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم آمنے سامنے ہو گئے اور ہم دونوں میں اتصال ہو گیا۔گویا جس امر کا موسیٰ نے مطالبہ کیا تھا اس سے بڑھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے خود ہی دکھا دیا۔(۳) تیسرا امتیاز اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ پر یہ بخشا ہے کہ صلى الله حضرت موسیٰ کی نسبت تو یہ آتا ہے کہ علم الله مُوسَى تكليما اور آنحضرت ع کی نسبت فرماتا ہے انا اذ حينا اليك كَمَا أَوْحَيْنَا إِلى نُوحِ والتَّبِينَ من بعده - وَاوْحَيْنَا إِلَى ابْرُهِيْمَ وَاسْمعِيلَ وَإِسْحَق وَيَعْقُوبٌ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَى وَآتُوبَ وَيُونُسَ وَهُرُونَ وَسُلَيمن وأتَيْنَا دَاوَدَزَبُورًا وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ وعلم الله موسى تكليما " یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم نے تیری طرف نوح جیسی وحی بھی نازل کی ہے اور ان تمام نبیوں جیسی وحی بھی جو اس کے بعد ہوئے۔اور ہم نے تجھ کو ابراہیم کے کمالات بھی دیئے ہیں اور اسمعیل کے کمالات بھی دیئے ہیں اور اسحق کے کمالات بھی دیئے ہیں اور یعقوب کے کمالات بھی دیئے اور یعقوب کی اولاد کے کمالات بھی دیئے ہیں اور عیسی کے کمالات بھی دیئے ہیں اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کے کمالات بھی دیئے ہیں اور داؤد کو جو ز بور ملی تھی وہ بھی ہم نے تجھے دی ہے۔اور جو موسیٰ سے ہم نے خاص طور پر بالمشافہ کلام کیا تھا وہ انعام بھی ہم نے تجھے دیا ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ محمدی وحی موسیٰ اور دوسرے نبیوں کی وحی کی جامع ہے۔اس میں وہ خوبی بھی ہے جو نوح اور دوسرے انبیاء کی وحی میں تھی اور پھر موسٹی کی وحی کی طرح اس میں کلام لفظی بھی ہے بلکہ اس میں موسوی وحی سے بھی ایک زائد بات یہ ہے کہ موسیٰ پر جو کلام اُترتا تھا اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے الفاظ میں لوگوں کے سامنے بیان کیا کرتے تھے۔جیسے ہم کسی کو کہیں کہ تم جاؤ اور فلاں شخص سے کہو کہ زید کو بخار چڑھا ہوا ہے تو بالکل ممکن ہے کہ وہ جائے اور زید مثلاً اس کا بھائی یا باپ ہو تو بجائے یہ کہنے کے کہ زید کو بخار چڑھا ہوا ہے یہ کہہ دے کہ میرے بھائی یا باپ کو بخار چڑھا ہوا ہے۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں گولفظی کلام اترتا تھا مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے الفاظ میں اسے لوگوں تک پہنچاتے تھے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چونکہ ترقی اپنے