انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 49

انوار العلوم جلد ۱۴ کیا احرار واقع میں مباہلہ کرنا چاہتے ہیں؟ تبدیلی مناسب ہو تو وہ بھی تراضی فریقین سے کی جاسکتی ہے۔(۴) ان مراحل کے بعد مباہلہ کی تاریخ کا اعلان کیا جائے جو تصفیہ شرائط کے بعد پندرہ دن کے وقفہ پر ہو۔ان میں سے ایک بات بھی نہیں جو احرار نے تسلیم کی ہو اور باوجود اس کے وہ شور مچا رہے ہیں کہ وہ مباہلہ کے لئے تیار ہیں۔میرے اس اعلان پر مظہر علی صاحب اظہر نے یہ کہا تھا کہ وہ قادیان میں مباہلہ کرنا چاہتے ہیں۔ان کے الفاظ تھے۔”ہم مرزا محمود کو کوئی موقع نہیں دینا چاہتے کہ وہ مباہلہ سے پہلو تہی کر سکے۔ہاں یہ ضروری ہوگا کہ مباہلہ قادیان میں ہو۔“ ( مجاہد ۲۔اکتوبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۲ ) چونکہ میں سمجھتا تھا کہ یہ لوگ کم از کم دین کے ایسے اہم معاملہ میں ہنسی مذاق سے کام نہ لیں گے، میں نے اعلان کر دیا کہ اگر قادیان پر انہیں اصرار ہے تو بہت اچھا ہمیں یہی منظور ہے مگر باقی شرائط کا تصفیہ ہو جانا ضروری ہے اور میں نے فیصلہ جلد کرانے کے لئے اپنی طرف سے نمائندوں کی ایک کمیٹی بھی مقرر کر دی جنہوں نے تصفیہ شرائط کے لئے زعمائے احرار کو الگ الگ رجسٹری چٹھیاں لکھیں مگر ان میں سے کسی کی طرف سے بھی کوئی جواب نہیں ملا۔اگر احرار ثابت کر دیں کہ یہ رجسٹری چٹھیاں ان کو نہیں ملیں یا یہ کہ انہوں نے ان کا جواب بذریعہ ڈاک دے دیا تھا تو میں ایک سو رو پید احرار کو انعام دینے کیلئے تیار ہوں اور اس غرض کیلئے مسٹر سیف الدین صاحب کچلو کو ثالث ماننے کو تیار ہوں۔جب بھی احرار چاہیں جماعت احمدیہ کا نمائندہ ایک سو روپیہ مسٹر کچلو کے پاس جمع کرا دے گا۔اس کے پندرہ دن کے اندر احرار اپنا ثبوت کچلو صاحب کے سامنے پیش کر دیں اور اگر کچلو صاحب ان کے حق میں فیصلہ کریں تو روپیہ ان کو دیدیں اور اگر فیصلہ ہمارے حق میں ہو یا پندرہ دن کے اندر احرار ثبوت پیش نہ کریں تو روپیہ جمع کرانے والے کو واپس مل جائے۔الغرض احرار کی طرف سے ہمارے کسی خط کا بذریعہ خط جواب نہیں دیا گیا۔آخر بار بار زور دینے پر اظہر صاحب نے میرے نام ۱۴۔اکتوبر کو ایک تار بھیجا۔( یہ عجیب بات ہے کہ اس موقع پر بھی ہمیں کوئی چٹھی نہیں بھجوائی گئی حالانکہ اس قدر پہلے تار بھجوانا بالکل بے معنی تھا۔) کہ وہ ۲۳۔نومبر کو مباہلہ کے لئے آجائیں گے۔اس کا جواب ناظر شعبہ تبلیغ جماعت احمدیہ کی طرف سے ۱۶۔اکتوبر کو دیا گیا جس میں یہ لکھا گیا کہ پہلے حسب اعلان شرائط کا تصفیہ ہونا ضروری ہے اس کے بعد مباہلہ کی تاریخ مقرر ہو گی۔