انوارالعلوم (جلد 14) — Page 50
انوار العلوم جلد ۱۴ کیا احرار واقع میں مباہلہ کرنا چاہتے ہیں؟ اس کا جواب احرار کی طرف سے آج تک نہیں ملا لیکن باوجود اس کے وہ لوگوں کو یہ دھوکا دے رہے ہیں کہ وہ مباہلہ کرنا چاہتے ہیں لیکن امام جماعت احمد یہ اس سے گریز کرتا ہے۔اگر میرا یہ دعویٰ غلط ہے کہ ۱۶۔اکتوبر کو ان کے نام ان کے تار کے جواب میں ایک چٹھی ہماری جماعت کی طرف سے بھیجی گئی یا یہ غلط ہے کہ اس چٹھی کا جواب اس وقت تک ناظر دعوۃ وتبلیغ کو بذریعہ بھی احرار کی طرف سے نہیں ملا تو میں اس پر ایک سو روپیہ کا مزید انعام مقرر کرتا ہوں اور اس کے لئے بھی مسلمانوں کے مشہور لیڈر مسٹر سیف الدین صاحب کچلو کو ثالث تسلیم کرنے کو تیار ہوں۔اگر وہ دونوں طرف کے کاغذات کو دیکھ کر اور ثبوت سن کر یہ فیصلہ کر دیں کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے احرار کو کوئی ایسی تحریر نہیں بھیجی گئی یا یہ کہ اس تحریر کا جواب احرار کی طرف سے بذریعہ خط ناظر دعوۃ و تبلیغ جماعت احمدیہ کو دے دیا گیا تھا تو ایک سو روپیہ مجلس احرار کو ہماری طرف سے ادا کر دیں ورنہ ان کے خلاف فیصلہ ہونے پر یا اس صورت میں کہ پندرہ دن کے اندر اندر وہ اپنا ثبوت مسٹر کچلو کے پاس پیش نہ کریں، وہ رقم روپیہ جمع کرانے والے کو واپس کر دی جائے گی۔جب بھی احرار چاہیں یہ روپیہ مسٹر کچلو صاحب کے پاس ہمارا کوئی نمائندہ جمع کرا دے گا۔اگر احرار دیانت سے کام لے رہے ہیں تو یہ فیصلہ جو میں خود انہیں کے ایک ہم مذہب کے سپر د کرتا ہوں وہ اس کے لئے آمادہ ہو جائیں اور مقررہ انعام ہم سے وصول کر لیں۔یہ درست ہے کہ احرار نے ہمارے پہنچ کے جواب میں اخباروں میں یہ اعلان کرنا شروع کیا تھا کہ انہیں سب شرائط منظور ہیں۔لیکن حقیقتا یہ درست نہیں تھا کیونکہ اول اگر انہیں واقعی سب شرائط منظور تھیں تو کیوں انہیں ان شرائط کے تحریر میں لانے سے گریز تھا۔دوسرے میری شائع کردہ شرطوں میں یہ شرط بھی شامل تھی کہ دونوں طرف کے نمائندے مل کر آخری ڈھانچہ شرائط کا طے کر لیں۔لیکن جب وہ جماعت احمدیہ کے نمائندوں کو جواب تک نہیں دیتے تھے تو اس شرط کا پورا ہونا تو الگ رہا شرطوں کے پورا ہونے کا امکان تک باقی نہ رہا تھا۔جب معاملہ اس حد تک پہنچا اور میں نے دیکھا کہ ایک طرف تو احرار شرطوں کو تحریر میں نہیں لاتے اور دوسری طرف مباہلہ کے بہانے سے لوگوں میں کا نفرنس کی تیاری کی تحریک کر رہے ہیں تو میں نے مناسب سمجھا کہ اب اس معاملہ کا دوٹوک فیصلہ ہو جانا چاہئے۔چنانچہ میں نے اس خیال سے کہ شاید احرار میرے اخباری اعلانات کا جواب دینے میں اپنی ہتک محسوس کرتے ہوں۔( گواس میں بتک کی کوئی بات نہ تھی ) میں نے ناظر دعوۃ تبلیغ کو اپنا نمائندہ ہونے کی تحریر