انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 29

مجلس نا ں احرار کا مباہلہ کے متعلق ناپسندیدہ رویہ انوار العلوم جلد ۱۴ تصفیہ کے پندرہ دن بعد کی ہوگی۔اس کے دو ہی معنی بنتے ہیں یا یہ کہ تاریخ میں مقرر کروں گا اور یا پھر یہ کہ تاریخ طرفین کی منظوری سے مقرر ہوگی لیکن تعجب ہے کہ ایک طرف تو مسٹر مظہر علی صاحب اظہر یہ اعلان کرتے ہیں کہ سب شرائط منظور ہیں دوسری طرف آپ ہی تاریخ کی تعیین بھی کر دیتے ہیں۔اگر واقع میں انہیں میری شرطیں منظور تھیں تو پہلے نمائندوں کی گفتگو ہونی چاہئے تھی ، پھر طرفین کی رضا مندی سے تاریخ کا تعین ہونا چاہئے تھا کیونکہ تاریخ کی تعیین میں شامل ہونے والوں کے آرام کا خیال رکھنا بھی مدنظر ہوتا ہے۔غرض اوپر کی مثالوں سے ہر شخص بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ ان امور کی موجودگی میں مسٹر مظہر علی صاحب اظہر کا یہ اعلان کہ انہیں سب شرائط منظور ہیں درست نہیں ہے اور نہ اعلان کردہ تاریخ کے شائع کرنے کا انہیں کوئی حق پہنچتا ہے۔بے شک وہ کہہ سکتے ہیں کہ بعض امور میں ان کی رائے بھی تسلیم کی جانی چاہئے میں اس بات کو ضر ور وزن دوں گا لیکن یہ تو نہیں ہونا چاہئے کہ وہ شرائط کے طے ہوئے بغیر بلکہ بعض شرائط کے خلاف عمل کرتے ہوئے یہ اعلان کرتے چلے جائیں کہ انہیں سب شرائط منظور ہیں۔میں نے سنا ہے کہ تحریر دینے کے متعلق مسٹر مظہر علی صاحب کو یہ اعتراض ہے کہ جماعت احمد یہ کے امام نے چونکہ ہمیں مخاطب کیا ہے، ہم انہی کو جواب دے سکتے ہیں دوسرے کو نہیں۔یہ تو ایک بچوں کی سی بات ہے اور اگر انہوں نے ایسا کہا ہے تو تعجب کا مقام ہے کیونکہ ضروری نہیں ہوتا کہ جو پہلا اعلان کرے وہ خود ہی ساری خط و کتابت کرے، اس کی طرف سے کوئی نمائندہ نہیں مقرر کیا جا سکتا۔اگر یہ اعتراض درست ہو تو مسٹر مظہر علی صاحب اظہر کی وکالت بے معنی ہو جاتی ہے۔عدالت میں دعوی کوئی کرتا ہے ، مدعا علیہ کوئی اور ہوتا ہے اور مسٹر مظہر علی صاحب اظہر اور ان کے رفقاء جا کر بحثیں کرتے ہیں۔جب ایک شخص با قاعدہ نمائندہ ہو تو پھر اس کی گفتگو اصل آدمی کی گفتگو ہی کبھی جاتی ہے۔پھر جو نمائندے میں نے مقرر کئے تھے وہ ایسے نہ تھے کہ اظہر صاحب کی ان سے گفتگو کرنے میں بہتک ہو۔ان میں سے ایک بیرسٹر ہیں اور سیالکوٹ کے معزز خاندان کے رکن اور صاحب حیثیت زمیندار ہیں اور مسٹر مظہر علی صاحب اظہر کی طرح پنجاب کونسل کے ممبر بھی ہیں۔دوسرے صاحب ہائی کورٹ لاہور کے ایک کامیاب اور معزز ایڈووکیٹ جماعت احمدیہ لاہور کے امیر اور میرے عزیزوں میں سے ہیں۔