انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 28

مجلس احرار کا مباہلہ کے متعلق ناپسندیدہ رویہ انوار العلوم جلد ۱۴ چار پانچ نہایت اہم کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مطالعہ کی ہوں مگر جیسا کہ میں نے اپنے خطبہ مطبوعہ الفضل ۶۔اکتوبر ۱۹۳۵ء میں بتایا ہے اس خیال سے کہ یہ شرط پوری کرنی احرار کے لئے مشکل نہ ہو صرف یہ شرط رکھی کہ مباہلہ کرنے والوں نے سلسلہ احمدیہ کی بعض کتب کا مطالعہ کیا ہوا ہو خواہ وہ تھوڑا ہی ہو۔اب ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ جواب کہ ہم سب شرطوں کو منظور کرتے ہیں اوپر کی بات کا پورا جواب نہیں ہوسکتا کیونکہ میں نے دوسوال کئے ہیں۔یعنی یا پانچ سو آدمی یا ہزار آدمی مباہلہ میں شامل ہوں۔پس جب تک تعداد کا تعین نہ ہو کہ پانچ سو ہوگا یا ہزار صرف یہ کہ دینے سے کہ شرط منظور ہے، کام کس طرح چل سکتا ہے۔؟ اب ہم پانچ سو آدمی تیار کریں یا ہزار اور ان کے پانچ سو آدمی کی امید رکھیں یا ہزار کی؟ نیز اس شرط کے مطابق یہ بھی ضروری ہے کہ ان پانچ سو یا ہزار کی فہرست اور مکمل پتے ہر فریق دوسرے کو دے تا کہ مباہلہ کے بعد ہر فریق ان پر نظر رکھ سکے کہ ان سے خدا تعالیٰ کا کیا معاملہ ہوا ؟ ورنہ ایک گروہ کا آ کر مباہلہ کر کے چلا جانا کیا فائدہ دے سکتا ہے۔اور یہ بات اس صورت میں طے ہو سکتی تھی اگر مجلس احرار کے بعض نمائندے جماعت احمدیہ کے بعض نمائندوں سے گفتگو کرتے اور سب باتیں تحریر میں آجاتیں۔(۲) دوسری بات جس پر اس گول مول جواب دینے سے روشنی نہیں پڑتی یہ ہے کہ میں نے خطبہ میں کہا تھا کہ مباہلہ لاہور یا گورداسپور میں ہو۔بعد میں ایک خطبہ میں میں نے کہا کہ میں نے سنا ہے احرار کہتے ہیں کہ مباہلہ قادیان میں ہوا گر ان کا اس میں کوئی فائدہ ہو تو مجھے یہ بات بھی ان کی منظور ہو گی۔اب ان کے اس جواب سے میں کیا سمجھوں؟ اگر ان کا یہ قول کہ میری ہر شرط انہیں منظور ہے درست ہے تو پھر مباہلہ کا مقام لاہور یا گورداسپور بنتا ہے لیکن اس صورت میں پہلے تعیین ہونی چاہئے کہ مقام لاہور ہوگا یا گورداسپور۔اور اگر ان کے اس اعلان کا مفہوم یہ نہیں تو پھر ان کا یہ بیان کہ میری ہر شرط انہیں منظور ہے درست نہ ہوا۔کیونکہ قادیان میں مباہلہ ہونا اُن کی شرط ہے نہ کہ میری۔اس صورت میں انہیں یوں لکھنا چاہئے تھا کہ قادیان کی شرط امام جماعت احمدیہ نے ہماری مان لی ہے۔باقی شرائط ہم ان کی مانتے ہیں۔مگر اس صورت میں بھی جگہ، وقت اور مجلس مباہلہ کا انتظام اور بہت سے اور امور ہیں کہ جو بغیر نمائندوں کے باہم ملنے کے طے نہیں ہو سکتے۔(۳) تیسری بات جو اس اعلان کو مشتبہ کرتی ہے یہ ہے کہ میری شرائط میں یہ درج ہے کہ طرفین کے نمائندے جب ضروری امور کا تصفیہ کر لیں گے تو تاریخ مباہلہ مقرر کی جائے گی جو اس