انوارالعلوم (جلد 14) — Page 563
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللهِ اَوْ اَشَدُّ خَشْيَةٌ ٢ ٤ کہ جب قتال فرض ہو ا تو ایک فریق لوگوں سے ویسے ہی ڈرنے اور خوف کھانے لگا جیسے خدا سے ڈرا جاتا ہے پس معلوم ہوا کہ تقیہ حرام ہے لوگوں نے کہا بالکل درست۔پھر کہنے لگا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعِدِ مَا بَيَّنَّهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَبِ أُولئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّعِنُونَ ہے کہ وہ لوگ جو ہماری باتیں چھپاتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔پس معلوم ہوا کہ ہم پر اپنے دین کی تبلیغ واجب ہے۔اس پر سب نے اس کی تصدیق کی اور از ارقہ کا یہ مذہب قرار پایا مگر اس کے اس دعویٰ کی خوارج کے ایک دوسرے لیڈ رعبداللہ بن اباض نے تکذیب کی اور کہا کہ باقی مسلمان مشرک نہیں وہ صرف کافر نعمت ہیں ان کے ملک میں رہنا جائز ہے اور ان سے نکاح جائز ہے اور ورثہ جائز ہے اور ان کا ذبیحہ بھی جائز ہے مگر جب عبد اللہ بن اباض اور نافع بن از رق کا فیصلہ ایک تیسرے لیڈر عبد اللہ بن صفار نے سنا تو وہ عبداللہ بن اباض سے کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ تجھ سے بیزار ہے کیونکہ تو نے نرم فیصلہ کیا اور مذہب میں کمی کر دی ہے اور نافع بن از رق سے بھی بیزار ہے کیونکہ اس نے مذہب میں زیادتی کر دی ہے اور بڑا سخت فیصلہ کیا ہے۔اُس وقت ایک اور عالم ان میں ابو بہتیں ہمیصم بن جابر الصبعی تھا۔اس نے کہا اصل بات یہ ہے کہ ہمارے دشمنوں کا حال تو مشرکوں کا سا ہے لیکن ان کے ملک میں رہنا جائز ہے جس طرح مسلمان مکہ میں کفار کے تابع رہے تھے اور مشرکوں کے احکام ان پر جاری ہیں ہاں نکاح وغیرہ ان سے جائز ہے کیونکہ وہ منافق ہیں اور اسلام کا منہ سے دعوی کرتے ہیں اور منافق سے نکاح جائز ہوتا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے پانچ فرقے ہو گئے۔(۱) ازارقہ جن کا عقیدہ تکفیر مسلمین وقاعدین اور براءت اور استعراض اور استحلال اموال اور قتل اطفال تھا۔(۲) اباضہ۔جن کا عقیدہ یہ تھا کہ دوسرے مسلمان کا فر بالنعمۃ ہیں۔باقی امور میں ان کا معاملہ مسلمانوں والا ہی سمجھا جائے گا۔(۳) صفریہ۔جو عبد اللہ بن صفار کے مرید تھے۔(۴) نجد یہ جو نجدۃ بن عویمر کے مرید تھے۔ان دونوں کا عقیدہ ایک تھا۔صرف یہ فرق تھا کہ صفریہ کا خیال تھا کہ ان مسلمانوں سے جہاد ضروری نہیں چنانچہ آخر یہ سب مسلمانوں کی لڑائی سے باز آ گئے۔