انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 562 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 562

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر إِلَى الَّذِينَ عَاهَدُ ثُمَّ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ - 19 تو معلوم ہوا اپنے دشمنوں سے ہمیں براءت ضروری ہے۔پھر کہنے لگا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اِنفِرُوا خِفَافاً وثِقَالًا وَّجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ ٠ کہ خواہ ایک ایک نکلو خواہ دو دو بہر حال ضروری یہ کہ اپنے اموال اور اپنے نفوس سے خدا تعالیٰ کی راہ میں جنگ کرو تو معلوم ہوا جو لوگ ہم میں سے ایسے ہیں کہ ہمارے ساتھ مل کر دشمنوں سے جنگ نہیں کرتے اور چھپے بیٹھے ہیں ان کا حکم مشرکوں کا حکم ہوا۔وہ کہنے لگے بالکل ٹھیک ہے پھر وہ کہنے لگا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَلَا تُنكِحُوا الْمُشْرِكِينَ ) مشرکوں سے نکاح نہ کرو تو معلوم ہوا ان لوگوں سے نکاح بھی ناجائز ہے وہ کہنے لگے ہاں۔پھر وہ کہنے لگا اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اِنَّ الَّذِينَ تَوَفَهُمُ الْمَلِئِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيْمَا كُنتُمْ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْأَرْضِ قَالُوا اَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ فَتُهَاجِرُوا فيها ٧٢ کہ جن لوگوں کی جانیں فرشتے ایسی حالت میں نکالیں گے کہ انہوں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہوا ہوگا وہ ان سے دریافت کریں گے کہ تمہاری کیسی حالت رہی ہے؟ وہ کہیں گے ہم دنیا میں سخت کمزور تھے اس پر وہ جواب دیں گے کہ کیا اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع نہیں تھی اور کیا تم ہجرت نہیں کر سکتے ؟ اس سے معلوم ہوا کہ دشمنوں کے ملک میں رہنا حرام ہے۔وہ کہنے لگے بالکل درست ہے۔پھر وہ کہنے لگا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ - ٤٣ که تم مشرکوں کو جہاں کہیں پاؤ قتل کرو۔پس ہمیں بھی اپنے دشمنوں کو جہاں ملیں انہیں قتل کرنا واجب ہوا۔انہوں نے کہا ہاں۔پھر وہ کہنے لگا اللہ تعالیٰ نوح کی زبان سے فرماتا ہے۔رَبِّ لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دَيَّارًا - إِنَّكَ إِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوْا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا ٤ - کہ اے رب ! ان کا فروں میں سے کسی کو زمین پر نہ چھوڑ نہ ان کے مردوں کو نہ عورتوں کو ، نہ لڑکوں کو نہ لڑکیوں کو کیونکہ اگر ان میں سے کوئی بھی باقی رہا تو پھر اس سے گفر شروع ہو جائے گا لیکن چونکہ یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ یہ صرف حضرت نوح کے دشمنوں کے متعلق حکم ہے عام لوگوں کے دشمنوں کے متعلق نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ اَکفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِّنْ أُولَتَكُمْ أَمْ لَكُمْ بَرَاءَةٌ فِي الزُّبُرِ ۷۵ کہ کیا تمہارے دشمن ان دشمنوں سے اچھے ہیں یا تمہیں خدا تعالیٰ نے بری قرار دیا ہے پس جب نوح کے دشمنوں اور ہمارے دشمنوں کا حال یکساں ہو اتو معلوم ہو اہمارے لئے اپنے دشمنوں کی عورتوں اور ان کے بچوں کا قتل بھی واجب ہے انہوں نے کہا ہاں۔پھر وہ کہنے لگا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ -