انوارالعلوم (جلد 14) — Page 533
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر جنوری کو ، ۲۱۔جنوری کو ، ۲۶۔جنوری کو اور ۲۸۔جنوری کو اور ان تمام الہامات کا باہم تعلق ہے۔چنا نچہ دیکھ لو 9۔فروری کے الہامات میں دو آیتیں ہیں، ایک سورہ نحل کی اور ایک سورہ احزاب کی۔اور سورہ احزاب کی آیات میں رسول کریم ﷺ کی بیویوں پر الزامات لگائے جانے کا ذکر ہے۔اس کے مقابلہ میں ۱۹۔جنوری کا الہام اس بارہ میں یہ ہے کہ اِنِّی مَعَكَ وَمَعَ اهلك هذه۔اس کے بعد ۲۱۔جنوری کو الہام ہوئے اور ان میں بھی ۹۔فروری والے الہام کا پہلا ٹکڑا کہ مَلْعُوْنِيْنَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أَخِذُوا بعینہ موجود ہے۔پھر ۲۶۔جنوری کو جو الہام ہوئے ہیں ان میں پھر الزام لگانے والوں کے دو لیڈروں کا ذکر ہے اور ان سزاؤں کا ذکر ہے جو 9 فروری والی آیت میں ہیں یعنی قتل یا قطع تعلق۔پھر ۲۸۔جنوری کو جو الہام ہوئے ہیں ان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مثیل ابراہیم قرار دیا گیا ہے۔جس طرح سورہ نحل کی آیتوں سے پہلے رسول کریم اللہ کو ملت ابراہیم کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔۲۸۔جنوری کے بعد پھر ۹۔فروری کے یہی الہامات ہیں درمیان میں اور کوئی الہام نہیں ہے۔اس تفصیل سے یہ امر قطعاً ثابت ہو جاتا ہے کہ ۱۹۔جنوری سے لیکر ۹۔فروری تک کے الہامات کو الگ الگ تاریخوں میں ہوئے ہیں لیکن ایک ہی مضمون کے متعلق ہیں اور مضمون یہ ہے کہ تیرے اہل وعیال سے دشمنی کی جائے گی مگر میں تیرے اور تیرے اہل وعیال کے ساتھ ہوں گا۔الزام لگانے والے گندے الزام لگائیں گے (جیسا کہ احزاب کی آیتوں کے مضمون سے ظاہر ہے ) اور خدا تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ہوں گے۔ان کو خیال رکھنا چاہئے تھا کہ اللہ تعالیٰ کے شعائر کی ہتک ایمان کے منافی ہے۔پھر فرماتا ہے کہ اس تحریک کے دو لیڈر ہوں گے اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہوگا اور اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کو فتح دے گا۔اس کے بعد ایک الہام ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے تیری طرف واپس لائے گا اس سے یا تو مرتدین میں سے کسی کی ہدایت مراد ہے اور یا پھر یہ مراد ہے کہ سلسلہ کا وقار جو کھویا جائے گا اُسے اللہ تعالیٰ واپس لائے گا۔پھر فرماتا ہے تو مجھے ایسا ہی پیارا ہے جیسے میرا ذکر یعنی جس طرح مجھے اپنی نیک نامی کا خیال ہے اسی طرح تیری نیک نامی کا بھی خیال ہے۔پھر فرمایا۔اے ابراہیم! یعنی مِلَّةَ ابرهیم کی اتباع کرنے والے! میں تیرے ساتھ ہوں۔یاد رکھ کہ جو خدا تعالیٰ کے بندے ہوتے ہیں گو دنیا ان کے خلاف ہو جائے مگر وہ اللہ تعالیٰ سے مدد پاتے ہیں۔(اس میں اشارہ ہے کہ اُس وقت بہت سی اقوام سلسلہ