انوارالعلوم (جلد 14) — Page 482
انوار العلوم جلد ۱۴ قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض ہندوؤں ،سکھوں اور بعض حکام کی امداد بھی ہے۔لیکن احرار کا فتنہ جو گزشتہ ایام میں ہوا وہ بھی بعض دوسری اہمیتوں کی وجہ سے معمولی فتنہ نہ تھا اور آپ لوگوں نے دیکھا کہ الِاِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ پر عمل کر کے آپ نے اس میں کیسی عظیم الشان کامیابی حاصل کی۔یہ نمونہ احکام الہی کی اطاعت کے نتیجہ کا آپ لوگوں نے تازہ تازہ ہی دیکھا ہے کہ کس طرح بغیر کسی لڑائی جھگڑے کے بغیر کسی قسم کی قانون شکنی کے باوجود اس کے کہ بعض حکام نے ہر طرح قانون شکنی پر جماعت کو مجبور کیا، اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم الشان فتح ہمیں دی۔اس تجربہ کے بعد اگر آپ کوئی نئی راہ اپنے لئے اختیار کرنا چاہیں تو آپ کیسے شکر گزار ہونگے ؟ جس نے نہیں دیکھا، وہ اقرار نہ کرے تو اُس پر افسوس نہیں لیکن جو دیکھ کر انکار کرے اُس کی حالت کیسی خطرناک ہے اور پھر یہ فتح تو ایسی ہے کہ شدید ترین دشمن بھی اس کا اقرار کرتے ہیں۔میں چاہتا تھا کہ اس فتنہ کو بھی آپ لوگوں کیلئے ایک نعمت بناؤں میرا خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حکمت کا ملہ سے اس فتنہ کو اس وقت اُٹھایا ہے تا کہ تحریک جدید کے دوسرے دور کو وہ پہلے سے بھی شاندار بنا دے۔میرا خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ تازیانہ آپ میں سے سُست رفتاروں کو تیز قدم کرنے کیلئے مارا ہے۔میں دیکھ رہا تھا کہ اس کے پیچھے ایک بہت بڑا خزانہ مخفی ہے جو اسلام اور احمدیت کی کامیابی میں بہت ہی ممد ہوگا۔میں اسے ایسا با موقع فتنہ سمجھتا تھا کہ اگر دشمن کی طرف سے اس قدر بد زبانی نہ کی جاتی تو مجھے ڈر ہوتا کہ شاید بدظنی کا شکار دشمن یہ نہ خیال کرنے لگے کہ کہیں جماعت میں تحریک جدید کے دوسرے دور کے کامیاب کرنے کیلئے یہ جنگ زرگری تو نہیں شروع کر دی گئی۔غرض میں اسے اللہ تعالیٰ کے پاک مکروں میں سے ایک مکر اور اس کی مطہر تدبیروں میں سے ایک تدبیر خیال کرتا تھا اور یقیناً اگر جماعت میری ہدایت کے مطابق عمل کرتی اور میری سکیم کے بیان ہونے تک کوئی شخص کوئی حرکت نہ کرتا تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت نیکی اور تقویٰ کے مقام پر پہلے سے بہت زیادہ مضبوطی سے قائم ہو جاتی اور خدا تعالیٰ کے تازہ فضلوں کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتی۔غرض جیسا کہ الہی سلسلوں کے تمام وہ ابتلاء جو دشمن کی طرف سے پیدا ہوں ، برکات اور ترقیات کا موجب ہوتے ہیں یہ فتنہ بھی بہت سی ترقیات اور برکات کا موجب ہوتا۔(اوراب بھی میں سمجھتا ہوں کہ ہوگا اگر ہم بچے طور پر اپنے دل میں اپنے ایک بھائی کی غلطی پر نادم ہوں اور اپنے نفسوں کی باگ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں دے دیں گولا ز ما کچھ دیر پڑ جائے گی )