انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 11

انوار العلوم جلد ۱۴ احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہرگز کوئی کمزوری نہیں دکھائیں گے تازہ رپورٹ مجھے پہنچی ہے کہ ایک ضلع میں غیر مبائعین نے ہمیں مناظرہ کا چیلنج دیا جو منظور کر لیا گیا۔حکومت کو اطلاع دی گئی کہ انتظام کیا جائے۔جس پر یہ انتظام کیا گیا کہ ہماری جماعت کو جسے چیلنج دیا گیا تھا ، اُلٹا دفعہ ۱۴۴ کا پابند کر دیا گیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے مناظر جلسہ گاہ پر نہ جاسکے اور غیر مبائعین پہنچ گئے اور انہوں نے ہماری عدم موجودگی کو فرار قرار دے کر اعلان کر دیا کہ مبائع بھاگ گئے ہیں۔ان پر دفعہ ۱۴۴ نہیں لگائی گئی اور اگر لگائی گئی تو اس کی خلاف ورزی پر ان سے کوئی باز پرس نہ کی گئی۔جب جماعت احمدیہ کا سیکرٹری اس ناروا سلوک کے خلاف پروٹسٹ کرنے کے لئے ڈپٹی کمشنر کے پاس پہنچا اور کہا کہ اس حکم کی نقل دی جائے ہم اپیل کرنا چاہتے ہیں تو اس نے نقل دینے سے انکار کر دیا اور کہا I WILL SMASH YOU یعنی میں تم کو میں ڈالوں گا۔اسی سلسلہ میں ایک ہندوستانی افسر نے ہمارے اس دوست سے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ حکومت تمہارے خلاف ہے پس آپ وقت ضائع نہ کریں، آپ کی کوئی داد خواہی نہ ہو گی۔یہ تازہ واقعہ ہے جو دس روز کے اندر اندر ہوا اور یہ دوصورتوں سے خالی نہیں۔یا تو یہ کہ حکومت کی طرف سے ہی ایسی ہدایتیں ماتحت افسروں کو ملی ہوئی ہیں۔یا پھر بعض کمزور افسروں کو ورغلا لیا گیا ہے۔اگر یہ سب کچھ حکومت کی ہدایات کے ماتحت ہو رہا ہے تو اسے چاہئے صاف طور پر بتا دے۔لیکن میں یہ ضرور کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس طرح وہ احمدیت کو ہرگز ہرگز د بانہیں سکتی۔روم کی حکومت نے حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر لٹکا دیا مگر وہ مسیحیت کو نہ مٹاسکی اسی طرح انگریز مجھے سُولی پر لٹکا سکتے ہیں تم میں سے ہر ایک کو لٹکا سکتے ہیں، ہم کو قید کر سکتے ہیں مگر انگریزوں اور دنیا کی دوسری سب حکومتوں سے بھی یہ ممکن نہیں کہ احمدیت کو مٹا سکیں۔اگر یہ واقعہ حکومت کے کہنے سے ہوا تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ خود چاہتی ہے کہ ایسی باتیں ہوں۔اس صورت میں ہمیں کیوں کہا گیا تھا کہ گذشتہ باتوں کو بھول جاؤ اور اگر یہ حکومت کی طرف سے نہیں ہے تو ہمیں خوشی ہے کہ جس قوم سے ہم پچاس برس سے دوستی کے تعلقات رکھتے آئے ہیں ، وہ انہیں توڑنے کے لئے تیار نہیں اور اس صورت میں ہمارا حق ہے کہ حکومت سے مطالبہ کریں کہ وہ ماتحت افسروں کو ہدایت کر دے کہ انصاف کریں۔ہم یہ جانتے ہیں کہ انگریز منصف ہیں اور اس لئے یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ خلاف آئین سلوک ہم سے نہ کیا جائے۔اب اس بات کے اعلان کے بعد ہم دیکھیں گے کہ حکومت کیا قدم اُٹھاتی ہے۔اگر اس میں اس کا دخل نہیں تو اس کا فرض