انوارالعلوم (جلد 14) — Page 445
انوار العلوم جلد ۱۴ مشکلات کے مقابلہ میں بہادرانہ طریق عمل اختیار کرو بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مشکلات کے مقابلہ میں بہادرانہ طریق عمل اختیار کرو ( تقریر فرموده ۱۰ جولائی ۱۹۳۷ء) ( حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے حسب ذیل تقریر ۱۰۔جولائی ۱۹۳۷ ء کو اُس دعوت کے موقع پر فرمائی جو جمعية فتيان الاحمدیہ نے جناب مولوی عبد الرحمن صاحب مولوی فاضل کے اعزاز میں جیل سے رہا ہونے پر دی۔) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔مجھے اس وقت سر درد اور گلے میں تکلیف ہے لیکن میں نے نہ چاہا کہ اس تقریب سے غیر حاضر رہوں جس میں اس وقت احباب جمع ہوئے ہیں۔میرے نزدیک ہماری جماعت ہی نہیں بلکہ ہندوستان میں یہ پہلا موقع ہے کہ اس حالت کے خلاف پروٹسٹ کرتے ہوئے جو بدقسمتی سے نظام حکومت میں پیدا ہو گئی ہے ہماری جماعت کا ایک فرد جیل خانہ میں گیا۔ہمیں عدالتوں سے شکوہ نہیں اس لئے کہ عدالت اس قانون کی پابندی کیلئے مجبور ہے جو اس کے سامنے حکومت نے رکھا اور اُس شہادت کو قبول کرنا یا کم از کم اُس کی طرف مائل ہونا قدرتی امر ہے جو حکومت کی طرف سے پیش کی جاتی ہے۔آگے یہ حکومت کا کام ہے خصوصاً پولیس کا کہ ایسی شہادت پیش کرے جو کچی ہومگر بدقسمتی سے جیسا کہ ہائی کورٹوں کے فیصلے دلالت کرتے ہیں ہندوستان کی پولیس اس بارہ میں بہت کوتا ہی کرتی ہے اور اس وجہ سے مجرم اور غیر مُجرم میں امتیاز نہیں ہو سکتا۔ان حالات میں ضروری ہے کہ لوگ قربانی کر کے حکومت کی توجہ ادھر پھیریں۔ابھی گزشتہ دنوں یہ سوال پیش ہوا تھا کہ ایگزیکٹو اور جوڈیشل کو الگ الگ کیا جائے مگر حکومت نے اس کی مخالفت کی۔اس کی وجہ یہی تھی کہ ایگزیکٹو اور جوڈیشل کے اکٹھے ہونے کی