انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 441

انوار العلوم جلد ۱۴ الله جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ میں تمہیں کوئی باک نہیں کہ خلیفہ نے دیانت داری کے خلاف فیصلہ کیا ہے اور اس کا نام حریت و آزادی رکھتے ہو۔لیکن سرکاری مجسٹریٹ کے فیصلہ کے متعلق یہ بات کہتے وقت حریت و آزادی کہاں جاتی ہے۔اس کے متعلق صرف اس وجہ سے نہیں کہتے کہ گورنمنٹ کی جوتی سر پر ہوتی ہے۔تم میں بعض لوگ بیٹھے ہیں جو کہتے ہیں کہ کیا چھوٹی سی بات پر جماعت سے نکال دیا مگر سوچو! کیا یہ بات چھوٹی ہے؟ قرآن کریم نے کہا ہے کہ جو کہتا ہے کہ نبی یا اس کے جانشینوں کا فیصلہ غلط ہے وہ مومن ہی نہیں۔صحابہ نے تو اس بات کو اس قدرا ہم قرار دیا ہے کہ ایک دفعہ دو شخص رسول کریم ﷺ کے پاس آئے۔اور کہا کہ ہمارا فیصلہ کر دیں۔ان میں سے ایک منافق تھا۔رسول کریم ﷺ ابھی بات سن ہی رہے تھے کہ اُس نے خیال کیا ، شاید فیصلہ میرے خلاف ہی نہ کر دیں! اس لئے اُس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! آپ کو تکلیف دینے کی کیا ضرورت ہے، ہم اپنا یہ مقدمہ حضرت عمرؓ کے پاس لے جاتے ہیں۔آپ نے فرمایا لے جاؤ چنانچہ حضرت عمرؓ کے پاس گئے اور دورانِ گفتگو میں حضرت عمرؓ کو اس بات کا علم ہوا کہ پہلے یہ آنحضرت لے کے پاس گئے تھے مگر وہاں منافق یہ کہہ کر آیا ہے کہ حضرت عمرؓ سے ہم فیصلہ کرالیں گے۔اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا۔ذرا ٹھہرو، میں ابھی آتا ہوں گھر گئے اور تلوار لا کر اُس شخص کی گردن اڑا دی۔۱۸ اس کے رشتہ دار رسول کریم ﷺ کے پاس شکایت لیکر گئے۔آپ نے فرمایا میں یہ ماننے کو تیار نہیں کہ عمر مومنوں کی گردنیں کاٹتا پھرتا ہے۔مگر آپ نے حضرت عمرؓ کو بلا کر دریافت فرمایا۔تو انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے۔مجھے معلوم ہوا تھا که یہ شخص اس طرح آپ کو کہہ کر گیا ہے اس لئے میں نے مار دیا کہ جوشخص محمد (صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر پر زیادہ اعتبار کرتا ہے، اُس کی سزا یہی ہے۔بیشک حضرت عمرؓ کا یہ فعل درست نہ الله تھا، ہماری شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی لیکن جہاں رسول کریم ﷺ نے بحكم الله اُن کے اس فعل کو نا پسند فرمایا، وہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر کے اصل کو تسلیم کیا کہ ایسا کہنے والا مومن نہیں کہلا سکتا اور فرمایا۔فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ہم اپنی ذات کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ کوقتل کا فعل درست نہیں مگر یہ بھی درست نہیں کہ وہ شخص مومن تھا اور عمرؓ نے مومن کو قتل کیا۔جو شخص تیرے فیصلہ کو نہیں مانتا۔وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ہرگز مومن نہیں۔جس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ایک فاسق کو مارا تھا۔پس جب آنحضرت خود فرماتے ہیں کہ میں غلطی کر سکتا ہوں تو پھر خلیفہ سے غلطی کس طرح ناممکن صل الله