انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 393

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ وعدہ کیا گیا تھا کہ کیس ختم ہونے پر ان تمام امور کے متعلق باز پرس کی جائے گی۔علاوہ ازیں پہلے بھی نظارت کا یہی رویہ ہے کہ ایسے امور کے متعلق خود ہی بغیر کسی درخواست کے نوٹس لیتی ہے۔چنا نچہ علی گوہر صاحب کی لڑکی پر قتل کے الزام والے مقدمہ میں جب وہ بری ہوگئی تھی تو نظارت امور عامہ نے ان سے باز پرس کی تھی کہ تم نے جھوٹی گواہیاں کیوں دیں۔وعدہ جہاں تک مجھے یاد ہے۔نظارت امور عامہ نے بھی اور غالبا خود حضرت صاحب نے بھی مصری صاحب سے فرمایا تھا۔اُس وقت کے ناظر خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب تھے۔۴۔مجھے الیکشن کے بعد یہ علم ہوا کہ پٹرول لینے والوں نے احسان علی سے کئی ایک خاص الخاص مراعات رکھ کر پٹرول گراں خریدا ہے حالانکہ اس سے ارزاں بھی مل سکتا تھا۔بٹالہ میں میں نے کسی سے سنا تھا کہ وہاں ۵۰ روپے پیشگی دے کر فی گیلن کے حساب سے لیا گیا تھا مگر بعد میں وہاں سے سودا منسوخ کرا کے سارا ٹھیکہ احسان علی کو دیا گیا اور اس طرح جس قدر پٹرول بھی الیکشن کیلئے خرچ ہوا، گراں قیمت پر لیا گیا حالانکہ اگر کمپنی سے براہ راست سودا کیا جاتا تو وہ کمیشن بھی انجمن کو بیچ سکتا تھا۔جہاں تک میرا خیال ہے کہ پٹرول کے سودا کرنے کے ذمہ وار نظارت کی طرف سے بظاہر حالات نیر صاحب تھے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ اس کے ساتھ رعایت کیوں کی۔البتہ چند سال کا عرصہ گزرتا ہے کہ سیالکوٹ ہاؤس کے مالک محمد الحق کو سکول والوں نے کچھ سپرٹ بٹالہ سے لانے کیلئے کہا۔چونکہ قواعد کی رو سے خاص مقدار سے زائد سپرٹ وہ بذریعہ ریل لانے کا مجاز نہ تھا ، تو اُس وقت احسان علی نے خفیہ طور پر اکسائز انسپکٹر کو جا کر رپورٹ کر کے بٹالہ کے اسٹیشن پر پکڑوا دیا۔اسحق رات بھر حوالات میں رہا پھر اس پر پانچ روپے جرمانہ ہوا۔اس کے دوسرے یا تیسرے روز حضرت صاحب کی خدمت میں غائبا کسی دعوت کے موقع پر یہ معاملہ پیش ہوا تو حضرت صاحب نے پریذیڈنٹ لوکل انجمن کو فرمایا کہ اس کے متعلق سخت نوٹس لیا جائے کہ ایسی کارروائی کیوں کی گئی۔جب لوکل پریڈیڈنٹ نے احسان علی کو حضرت صاحب کا یہ ارشاد سنایا تو اُس نے بر ملا کہا کہ حضرت صاحب کو اگر علم ہوتا کہ رپورٹ احسان علی نے کی ہے تو حضرت صاحب کچھ نہ فرماتے۔اس کے بعد سنا تھا کہ رپورٹ وغیرہ کا رروائی مکمل ہو کر ذمہ وار لوگوں تک پہنچی مگر کسی نے احسان علی سے کچھ نہ پوچھا۔۵۔میں نے کہا ہے کہ عبد الرحمن کو بغیر کسی معقول QUALIFICATION کے