انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 374

انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) ٹھوکر لگ گئی اور انہوں نے عجیب و غریب قصے گھڑ لئے۔چنانچہ چیونٹی کا واقعہ جو وہ بیان کرتے ہیں اسی کے ضمن میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان کو جب وہ چیونٹی ملی تو آپ نے اس سے پوچھا کہ بتا مجھ سے بڑا آدمی بھی تو نے کبھی دیکھا ہے؟ وہ کہنے لگی یہ کوئی اچھی بات معلوم نہیں ہوتی کہ آپ تخت پر بیٹھے ہوں اور میں زمین پر۔آپ مجھے اپنے پاس بٹھا ئیں پھر آپ کی بات کا میں جواب بھی دے دونگی۔انہوں نے اُسے اُٹھا کر تخت پر بٹھا لیا۔وہ کہنے لگی اب بھی میں بہت نیچے ہوں آپ ذرا اور اوپر کریں۔چنانچہ انہوں نے اُسے اپنے ہاتھ پر اُٹھا لیا۔اس پر وہ کہنے لگی بڑے آپ نہیں بلکہ میں بڑی ہوں جو سلیمان کے ہاتھ پر بیٹھی ہوں۔تو ایسے ایسے لطائف انہوں نے لکھے ہیں جنہیں سُن کر ہنسی آتی ہے۔بے شک پہلی کتب میں بھی استعارے استعمال کئے گئے ہیں مگر ان کتب میں ان استعاروں کے لئے اندرونی حل موجود نہیں تھا۔اس کے مقابلہ میں قرآن کریم میں بھی استعارے ہیں مگر ساتھ ہی اس نے حل بھی رکھ دیا ہے تا کہ اگر کسی کو ٹھوکر لگے تو عالم قرآن اُس کو سمجھا سکے۔غرض قرآن کریم کو وہ عظمت حاصل ہے جو دنیا کی اور کسی کتاب کو حاصل نہیں اور اگر کسی کا یہ دعویٰ ہو کہ اُس کی مذہبی کتاب بھی اس فضیلت کی حامل ہے تو میں چیلنج دیتا ہوں کہ وہ میرے سامنے آئے۔اگر کوئی وید کا پیر و ہے تو وہ میرے سامنے آئے۔اگر کوئی تو ریت کا پیر و ہے تو وہ میرے سامنے آئے۔اگر کوئی انجیل کا پیر و ہے تو وہ میرے سامنے آئے اور قرآن کریم کا کوئی ایسا استعارہ میرے سامنے رکھ دے جس کو میں بھی استعارہ سمجھوں۔پھر میں اس کا حل قرآن کریم سے ہی نہ پیش کر دوں تو وہ بیشک مجھے اس دعوی میں جھوٹا سمجھے لیکن اگر پیش کر دوں تو اُسے ماننا پڑے گا کہ واقعہ میں قرآن کریم کے سوا دنیا کی اور کوئی کتاب اِس خصوصیت کی حامل نہیں۔اس وقت تک میں نے قرآن کریم کی فضیلت کے متعلق آٹھ دس باتیں ہی بیان کی ہیں۔