انوارالعلوم (جلد 14) — Page 323
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) عام کتابوں کی طرح اس میں مسائل بیان کر دئیے جاتے تو لوگوں کا ذہن اس طرف منتقل نہ ہوتا کہ ان مسائل کے بار یک مطالب بھی ہیں۔وہ صرف سطحی نظر رکھتے اور غور وفکر سے محروم رہتے۔مگر اب اللہ تعالیٰ نے ان مسائل کو اس طرح پھیلا دیا اور ایک دوسرے میں داخل کر دیا ہے کہ انسان کو ان کے نکالنے کیلئے غور و فکر کرنا پڑتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک سمندر ہے۔( ج ) یہ ترتیب اس لئے بھی اختیار کی گئی ہے تا خشیت الہی پیدا ہو کیونکہ خشیت الہی پیدا نے کیلئے یہ ترتیب ضروری تھی۔مثلاً اگر یوں مسائل بیان ہوتے کہ وضو یوں کرو گی اس طرح کرو، عبادت اس طرح کرو، اتنی رکعتیں پڑھو تو خشیت الہی پیدا نہ ہوتی۔جیسے عبادت وغیرہ کے تمام مسائل قدوری اور ہدایہ وغیرہ میں بھی مذکور ہیں مگر قدوری اور ہدا یہ پڑھ کر کوئی خشیت اللہ پیدا نہیں ہوتی۔لیکن وہی مسئلہ جب قرآن میں آتا ہے تو انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی خشیت سے لبریز ہو جاتا ہے۔اس لئے کہ قرآن ان مسائل کو خشیت اللہ کا ایک حجز و بنا کر بیان کرتا ہے الگ نہیں۔اور دراصل نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ وغیرہ مسائل کا اصل مقصد تقوی ہی ہے۔پس قرآن تقوی کو مقدم رکھتا ہے تا جب انسان کو یہ کہا جائے کہ وضو کر و تو وہ وضو کر نے کیلئے پہلے ہی تیار ہو۔اسی طرح جب کہا جائے کہ نماز پڑھو تو انسان نماز پڑھنے کیلئے پہلے ہی تیار ہو۔اگر قرآن میں نماز کا الگ باب ہوتا تو اُسے پڑھ کر خشیت اللہ پیدا نہ ہوتی۔پس الها می کتاب چونکہ اصلاح کو مقدم رکھتی ہے اس لئے وہ سطحی ترتیب کو چھوڑ کر ایک نئی ترتیب پیدا کرتی ہے جو جذباتی ہوتی ہے۔یعنی قلب میں جو تغیرات پیدا ہوتے ہیں الہامی کتاب اُن کا ذکر کرتی ہے۔یہ نہیں کہ وہ وضو کے بعد نماز کا ذکر کرے بلکہ وہ وضو سے روحانیت ، طہارت اور خدا تعالیٰ کے قُرب کی طرف انسان کو متوجہ کرے گی۔کیونکہ وضو سے طہارت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں پھر جب نماز کا مسئلہ آئے گا تو یہ نہیں ہوگا کہ اللہ تعالٰی نماز کے مسائل بیان کرنا شروع کر دے بلکہ سجدہ اور رکوع کے ذکر سے جو جذبات انسانی قلب میں پیدا ہوتے ہیں اُن سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے وہ اُسے اپنی طرف متوجہ کرے گا تا جو جذبات بھی انسان کے اندر پیدا ہوں اُن سے وہ ایسا اثر لے جو اُ سے خدا تعالیٰ کے قریب کر دے۔قلبی واردات کی دو مثالیں پس ترکیب قرآن ظاہر پر مبنی نہیں بلکہ قلب کے جذبات کی لہروں پر مبنی ہے اور یہ لہریں مختلف ہوتی ہیں۔میں اس کے متعلق دو مثالیں دے دیتا ہوں۔ایک اچھی اور ایک بُری۔کہتے ہیں کسی مسجد