انوارالعلوم (جلد 14) — Page 310
مستورات سے خطاب انوار العلوم جلد ۱۴ میں تم سے یہ کہتی ہوں کہ تم جنگ میں جاؤ یا تو فتح کر کے آنا یا اپنی جانیں وہیں دے دینا دشمن کو ناکامی کی پیٹھ نہ دکھانا۔بیٹوں کو رخصت کر کے خدا کا فرض ادا کیا۔پھر جنگل میں جا کر خدا کے حضور نہایت گریہ وزاری سے دعا کی اور مامتا کا حق ادا کیا۔خدا تعالیٰ نے شام کو فتح دیدی۔19 اس وقت بھی محمد شریف ایک لڑکا گجرات کا رہنے والا ہے۔جہاں وہ رہتا ہے وہاں لڑائی ہے انگریزوں کے قونصل (COUNCIL) نے اُسے بلا کر کہا کہ تم یہاں سے چلے جاؤ تا کہ تمہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے۔اس نے جانے سے انکار کیا۔قونصل نے کہا ہم تمہیں سرکاری خرچ پر پہنچادیں گے لیکن اس نے کہا میں یہاں مرنے ہی کو آیا ہوں آخر اس کو وہاں سے زبر دستی باہر بھجوایا گیا۔پس اگر تمہارے ہمسایہ کے بچے ایسا کرتے ہیں تو تم اسی سے خوش مت ہو جاؤ بلکہ کوشش کرو کہ تمہارا اپنا بچہ بھی ایسا کرے۔دیکھو میں نے چھوٹی چھوٹی تحریکیں کی ہوئی ہیں۔مثلاً ایک کھانا کھاؤ ، سادہ زندگی بسر کرو، مگرا بھی بہت سے مرد، عورتیں اور لڑکیاں ہیں جو اس تحریک پر عمل نہیں کر رہیں۔غریب لوگ تو پہلے ہی ایک کھانا کھاتے ہیں پس غریبوں کیلئے تو یہ مفت کا ثواب ہے۔میں نے تحریک کی تھی کہ گوٹہ کناری مت لگا ؤ مگر جو پہلے کسی کے پاس ہوں اُن کو سوائے شادی بیاہ کے مت پہنو۔بعض غریب عورتیں سوال کرتی ہیں کہ چھوٹا گوٹہ اور ٹھپہ لگالیں؟ دیکھو نچے گوٹے لگانے والیاں تو پھر بھی کچھ مال دار ہوتی ہیں مگر جھوٹا لگانے والی تو اس بات کا ثبوت دیتی ہے کہ وہ غریب ہے پھر بھی فضولی سے باز نہیں آئی۔دیکھو ایک ایک پیسہ کی قدر کرنی چاہئے۔پیسوں سے روپے بنتے ہیں۔پس پیسوں کی قدر کرو اُنہی پیسوں کا گھی بچوں کو کھلا ؤ تو صحت اچھی ہو گی۔جُھوٹے گوٹے کناری سے کیا فائدہ؟ جھوٹا زیور بھی مت خرید و پہلے جو گز را سوگز را آب تم پیشتر اس کے کہ نئے قانون بنائے جائیں پہلے پر عمل کرو۔خواہ مخواہ پھیری والوں سے کوئی سو دانہ خریدو۔پھیری والوں سے جو چیز لی جاتی ہے غیر ضروری ہوتی ہے۔دیکھو! اگر تم کو ضرورت ہوتی تو تم اپنے خاوند کو بازار بھیجتیں اور وہ چیز منگوا تیں لیکن پھیری والے کا کپڑا دیکھ کر پسند کرنا ہی بتاتا ہے کہ اصل ضرورت نہ تھی دیکھ کر پسند آ گیا۔پس یا درکھو کوئی چیز بغیر ضرورت نہ خرید و اور سادہ زندگی بسر کرو۔میں امید کرتا ہوں خدا کی آواز آنے سے پیشتر اپنے آپ کو تیار کر لو گی۔شرعی حکم کے ماتحت روزے رکھو۔سوچو! تم میں کتنی ایسی ہیں جن کے ذمے روزے تھے اور دوسرے روزے آنے سے پہلے ان روزوں کو پورا کیا ؟ پس دوسرے روزے آنے سے پہلے اپنے پہلے