انوارالعلوم (جلد 14) — Page 287
انوار العلوم جلد ۱۴ حکومت برطانیہ کا تازہ انقلاب اور الفضل ہوگی جس پر انگلستان بجاطور پر فخر کر سکے گا۔خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ شاہ ایڈورڈ کے آخری ایام حکومت میں ان کے خیالات کی رو کس طرف کو جارہی تھی لیکن جو کچھ واقعات سے سمجھا جاسکتا ہے وہ یہی ہے کہ وہ خیال کرتے تھے کہ مجھے اپنے ملک کے مذہب سے پوری طرح یا جزوی طور پر اختلاف ہے۔بعض بڑے پادریوں کو مجھ سے شدید اختلاف پیدا ہو چکا ہے۔جب وہ ایک ایسے امر سے مجھے روک رہے ہیں جس کی قانون اجازت دیتا ہے تو کل وہ مجھ سے اور کیا کچھ مطالبہ نہ کریں گے۔اس وقت ا و ملک میرے ساتھ ہے ممکن ہے گل کوئی ایسا سوال پیدا ہو کہ ملک بھی میرے خلاف ہو پھران حالات میں کیوں ملک کی اقلیت کی خاطر میں اپنے وعدہ کو ترک کروں اور ایک عورت کو دنیا بھر میں اس الزام سے مطعون کروں کہ دیکھو! یہ وہ عورت ہے جس سے ایڈورڈ نے اس وجہ سے شادی نہ کی کہ وہ مطلقہ تھی۔پس کیوں نہ میں اس جھگڑے کا آج ہی خاتمہ کر دوں اور ملک کو آئندہ فسادات سے بچالوں اس کے برخلاف وہ پادری جو سابق بادشاہ کی مخالفت کر رہے تھے ، ان کے خیالات کی رو یہ معلوم ہوتی ہے کہ بادشاہ مذہب عیسویت سے متنفر معلوم ہوتا ہے۔آج موقع ہے آئر لینڈ اور کینیڈا کیتھولک مذہب کے زور کی وجہ سے مسئلہ طلاق میں تعصب رکھتے ہیں۔اگر اس وجہ سے ہم بادشاہ کا مقابلہ کریں تو جن دو نتائج کے نکلنے کا امکان ہے، دونوں ہمارے حق میں مفید ہوں گے۔اگر بادشاہ دب گئے تو آئندہ کو ہمارا رعب قائم ہو جائے گا اور اگر بادشاہ تخت سے الگ ہو گئے تو ہمارے راستہ سے ایک روک دور ہو جائے گی۔خیالات کی ان دونوں روؤں کا مقابلہ کر لو اور پھر سوچ لو کہ کیا یہ کہنا درست ہے کہ آہ! (ایڈورڈ ہشتم پر ) کس قدر افسوس ہے۔آہ! کس قدر افسوس ہے۔یا یہ کہنا درست ہے کہ ان پادریوں پر جنہوں نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ ایک خادم قوم اور مخلص بادشاہ کو با وجود اس کے کہ قانون اُس کے حق میں تھا تخت سے علیحدہ ہونا پڑا ، افسوس ہے آہ ! کس قدر افسوس ہے۔خلاصہ یہ کہ بادشاہ کے ساتھ بعض لوگوں کا (انگلستان کا نہیں ) جھگڑا وہ نہیں تھا جو بعض ناواقف لوگ سمجھتے ہیں بلکہ مذہب اور قانون کے احترام کا جھگڑا تھا۔بادشاہ اپنے منفرد مذہب پر اصرار کرتے تھے اور پادری قومی مذہب پر۔(حالانکہ قومی مذہب مذہب نہیں سیاست ہے جبکہ اس کا اثر اصولی مسائل پر بھی پڑتا ہو ) اور بادشاہ قانون کا احترام کرتے ہوئے قانون پر