انوارالعلوم (جلد 14) — Page 246
انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایات شروع سے ہی خوشی سے شامل ہو جاتے ہیں اور بالکل ناقص وہ ہوتے ہیں جو کبھی حصہ نہیں لیتے۔پس کچھ لوگ جہاں ایسے ہوتے ہیں جو شروع میں ہی ساتھ شامل ہو جاتے اور چلتے چلے جاتے ہیں وہاں بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو پہلے شامل ہو جاتے اور پھر آہستہ آہستہ نکلنا شروع کر دیتے ہیں اور اسی قسم کا مظاہرہ بعض والدین اور بعض طالب علموں نے کیا ہے۔پس میں تحریک جدید کے طلباء کو بھی اس طرف توجہ دلاتا ہوں اور انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ان کو اپنے سامنے ہمیشہ وہ مقصد رکھنا چاہئے جو اسلام کا منتہ ہی ہے اور جس کیلئے تحریک جدید جاری کی گئی ہے۔میں اس یقین اور وثوق پر آب قائم ہو چکا ہوں۔ایسا ہی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جیسے دنیا میں کوئی مضبوط ترین چٹان قائم ہو کہ دنیا کا واحد علاج اس وقت مغربیت کا کچلنا ہے۔جب تک ہم مغربیت کو کچل نہیں سکتے اُس وقت تک دنیا میں روحانیت قائم نہیں ہوسکتی یہ ناسور ہے جو دنیا کو ہلاک کر رہا ہے اور جب تک اس ناسور کو کاٹ کر الگ پھینک نہیں دیا جائے گا دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔منافقت اس سے ترقی کرتی ہے، کفر اس سے ترقی کرتا ہے، نافرمانی اس سے ترقی کرتی ہے، شرک اس سے ترقی کرتا ہے، مداہنت اس سے ترقی کرتی ہے، اباحت اس سے ترقی کرتی ہے، دہریت اس سے ترقی کرتی ہے غرض یہ ساری بیماریوں کی جان ہے اور اس کے کسی ایک حصہ کو بھی باقی رہنے دینا ایسا ہی ہے جیسے طاعون یا ہیضہ کے بہت سے کیڑے تو مار دیئے جائیں مگر ہیضہ اور طاعون کے کچھ کیڑے محفوظ رکھ لئے جائیں۔پس تحریک جدید کے طلباء کو یہ امر ہمیشہ اپنے مد نظر رکھنا چاہئے کہ ان کا مقصد مغربیت کی روح کو کچلنا ہے۔بے شک بعض طالب علموں کے ماں باپ کے ذہن میں یہ بات موجود ہے کہ وہ اپنے بچوں کو خدمت دین کیلئے وقف کر دیں گے لیکن اصل قربانی یہ ہے کہ انسان اُن ممالک میں تبلیغ کیلئے جائے جن ممالک میں جانا ہر قسم کے خطرات اپنے ساتھ رکھتا ہے۔لیکن چونکہ جانا اپنے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ امام جہاں بھیجے وہاں جانا ضروری ہوتا ہے اس لئے دل میں ارادہ یہ رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کیلئے ہم ہر قسم کے خطرات قبول کرنے کیلئے تیار رہیں گے۔خصوصیت سے جب کوئی مبلغ مغرب میں جائے تو اُس کو ہمیشہ یہ امر اپنے مدنظر رکھنا چاہئے کہ مغربیت کو گچلنا اس کے فرائض میں داخل ہے۔اگر وہ اس فرض کو ادا نہیں کرتا تو وہ اسلام سے تمسخر کرتا اور ہم کو بیوقوف بنانا چاہتا ہے لیکن ہم بیوقوف نہیں ہیں۔بچپن میں ایک ہمارے اُستاد ہوا کرتے تھے انہوں نے جس روز دیکھنا کہ ہم گھر سے مٹھائی لے کر نکلے ہیں تو دُور سے ہی ہمیں دیکھ کر کہنا