انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 153

انوار العلوم جلد ۱۴ منتظمین جلسہ سالانہ کو ہدایات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ منتظمین جلسہ سالانہ کو ہدایات اور کارکنان کا شکریہ تقریر فرمود ۲۰ جنوری ۱۹۳۶ به قام قادیان تم اء ء تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ہمارے ملک کے لوگوں کی کوتاہیوں میں سے ایک بہت بڑی کوتا ہی یہ ہے کہ ہمارے ہاں کسی چیز کا کوئی معیار مقرر نہیں۔کوئی چیز کسی جگہ سے طلب کی جائے ایک دفعہ تو اچھی مل جائے گی لیکن دوسری دفعہ اسی قسم کی نہیں مل سکے گی۔ایک ہی دُکان سے دو دفعہ سودا خریدیں تو وہ کبھی ایک جیسا نہیں ملے گا بلکہ کبھی کسی قسم کا ہوگا اور کبھی کسی قسم کا۔کوئی معیار کے نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے ملک کی چیزوں کی قیمت بہت کم پڑتی ہے کیونکہ تاجر کہتے ہیں یہاں سے جو چیز آئے گی ہم نہیں کہہ سکتے وہ معیار کے مطابق ہوگی یا نہیں۔اس کے مقابلہ میں دیگر ممالک کی اشیا ءلوگ مقررہ قیمت پر لینے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں لیکن ہندوستان کی اشیاء مقررہ قیمتوں پر لینے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔آج اس جلسہ کے موقع پر یہ نئی بات معلوم ہوئی ہے کہ ہمارے ملک کی گھڑیاں بھی غیر معیاری ہیں۔چنانچہ پروگرام میں تو یہ لکھا ہوا تھا کہ ناظم اصحاب پانچ پانچ منٹ رپورٹ سنانے کیلئے لیں گے لیکن ان میں سے ہر ایک کا وقت دومنٹ سے لے کر پندرہ سولہ منٹ تک پھیلتا چلا گیا۔یعنی کہیں تو سکڑ گیا ہے اور کہیں پھیل گیا ہے۔میں سمجھتا ہوں ایسے موقع پر یا تو جیسے مختلف مجالس میں قاعدہ ہوتا ہے صفحے مقرر کر دیئے جائیں اور کہہ دیا جائے کہ ہر شخص مضمون کے اتنے صفحے پڑھ سکتا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔یا پھر پروگرام میں یہ لکھنے کی ضرورت نہ تھی کہ ہر شخص پانچ منٹ لے گا۔کیونکہ میری طرف سے ایسی کوئی شرط نہ تھی کہ ہر شخص ضرور پانچ منٹ ہی لے اس سے زیادہ نہ لے۔