انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 112

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت ڈاکٹروں نے کونین وغیرہ دواؤں کی صورت میں ان کی شکل تبدیل کر دی۔حال ہی میں کوڑھ کے علاج کیلئے چالموگر ائل (CHAUL MOOGRA OIL) ایک مشہور دوانگلی ہے جسے بنگال کے لوگ کو ہریوں کے علاج میں آج سے کچھ عرصہ پہلے استعمال کیا کرتے تھے۔اب اسے ڈاکٹروں نے شکل کی تبدیلی سے کوڑھ کا اعلیٰ علاج تسلیم کر لیا ہے اور ان چیزوں سے جو فائدہ ڈاکٹروں نے اُٹھایا ہے وہ زمینداروں نے نہیں اُٹھایا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ڈاکٹر اپنے فن کا ماہر ہوتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ فلاں دوا فلاں موقع پر استعمال ہوگی اور فلاں موقع پر نہیں یا فلاں فلاں دواؤں سے مل کر اس کی یہ تاثیر ہو جاتی ہے اور اگر الگ کھلا ئیں تو یہ تاثیر ہوتی ہے لیکن زمینداران باتوں کو نہیں جانتا۔وہ اتنا ہی جانتا ہے کہ دوائی گھوٹی اور مریض کو پلا دی۔چاہے وہ جئے یا مرے۔تو مشق انسان میں بہت بڑی طاقت پیدا کر دیا کرتی ہے۔اگر ایک انسان کے ہاتھ میں لٹھ ہو مگر وہ اسے چلانا نہ جانتا ہو ، تو اس لٹھ کے رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔لیکن اگر وہ لٹھ چلانے کی مہارت رکھتا ہو تو ایک لٹھ سے ہی وہ کئی دشمنوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ہماری جماعت کے ایک دوست بنوٹ سے کے ماہر ہیں۔وہ سنایا کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ان پر چالیس پچاس آدمیوں نے مل کر حملہ کر دیا مگر چونکہ پنوٹ کے ماہر تھے اس لئے انہوں نے ان کا مقابلہ کیا اور ان چالیس پچاس آدمیوں کو زخمی کر دیا۔جب مقدمہ چلا اور معاملہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوا تو اس نے یہ ماننے سے ہی انکار کر دیا کہ ایک آدمی نے چالیس آدمیوں کو زخمی کر دیا ہے اور مقدمہ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔تو مہارت ایک ایسی چیز ہے کہ جب یہ پیدا ہو جائے تو جس چیز کی بھی مہارت ہو، اس سے انسان پوری طرح فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔لیکن اگر مہارت نہ ہو اور خالی اخلاص ہو تو وقت آنے پر اخلاص دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے اور کسی کام نہیں آ سکتا۔مثلاً اگر کسی کے عزیز کا سر پھٹ جائے تو اس موقع پر اگر اسے فرسٹ ایڈ نہیں آتی تو چاہے اس کے غم میں سر پھوڑنے کیلئے تیار ہو جائے مگر اپنے عزیز کے سر سے خون نہیں بند کر سکے گا۔یا مثلا زخم پر پٹی باندھنا ہے، بظاہر انسان سمجھتا ہے کہ یہ معمولی بات ہے حالانکہ یہ کام بھی بغیر مشق کے نہیں آ سکتا۔میرے گھٹنے میں ایک دفعہ درد ہوا۔ڈاکٹر صاحب پٹی باندھ کر جائیں تو وہ دو دو دن تک بندھی رہے لیکن ایک دن پٹی میں نے خود باندھ لی۔اُس دن باہر نماز پڑھانے کیلئے جو گیا تو میں نے دیکھا کہ پٹی میرے پاؤں میں پڑی ہوئی ہے۔یا مثلا دبانا ہے ، لوگ اسے معمولی کام سمجھتے ہیں حالانکہ یہ کام بھی بغیر مشق کے